data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد(صباح نیوز)پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ ن کے درمیان جاری سیاسی تناﺅ میں پاکستان تحریک انصاف نے پیپلزپارٹی کو پیشکش کی ہے کہ آپ وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائیں ہم ساتھ دیں گے۔وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بیان کے بعد پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی میں کشیدگی ختم نہ ہوسکی۔ پیپلز پارٹی نے پیر کو احتجاجا قومی
اسمبلی اور سینیٹ سے واک آوٹ کیا، اور مریم نواز کے بیان کی شدید مذمت کی۔قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے سینئر رہنما پاکستان پیپلز پارٹی راجاپرویز اشرف نے کہاکہ میرا تعلق پنجاب سے ہے لیکن ہم سب سے پہلے پاکستانی ہیں۔انہوں نے کہاکہ کوئی اس بھول میں نہ رہے کہ پیپلز پارٹی کو دیوار سے لگا دے گا، ہمیں سمجھ نہیں آتی کہ متنازع بیانات دینے کی آخر وجہ کیا ہے۔ پی پی رکن قومی اسمبلی نے کہاکہ بلاول نے وزیر اعلیٰ پنجاب کی تعریف کی، ایسا نہ ہو کہ یہاں صوبائیت کی بدبو پھر پھیل جائے۔ہم تو پاکستان کھپے کا نعرہ لگانے والے لوگ ہیں۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے ممبر قومی اسمبلی و سابق اسپیکر اسد قیصر نے کہاکہ پیپلز پارٹی کے فرینڈلی فائر بیک کا خیر مقدم کرتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی پوائنٹ اسکورنگ نہ کرے، یہ لوگ اگر سنجیدہ ہیں تو وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائیں ہم ساتھ دیں گے۔

 

خبر ایجنسی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی قومی اسمبلی نے کہاکہ

پڑھیں:

بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر

اسلام آباد (ًؐنمائندہ خصوصی +نوائے وقت رپورٹ) وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا 3 جون کو ہونے والا اجلاس ملتوی ہو گیا جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ ذرائع کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ پیش کرنے کی نئی تاریخ کا تعین نہیں ہو سکا، دوسری جانب ذرائع قومی اسمبلی کا بتانا ہے کہ وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی وجہ سامنے آگئی۔ پارلیمانی ذرائع کے مطابق حکومت بجٹ اجلاس سے قبل اہم قانون سازی کرنا چاہ رہی ہے، قانون سازی کے آئندہ وفاقی بجٹ سے متعلق اہم اثرات ہوں گے تاہم  پیپلز پارٹی قانون سازی کے حق میں نہیں ہے۔ پارلیمانی ذرائع کا بتانا ہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شگر ویلی میں اپنے خطاب میں واضح پیغام دیا ہے، پیپلز پارٹی مجوزہ ترامیم کی مخالفت کر رہی ہے۔ بجٹ اجلاس سے قبل ترامیم نہ ہو سکیں تو آئندہ مالی سال میں تبدیلیاں نہیں آسکیں گی۔ پارلیمانی ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ پیپلز پارٹی کو منانے کے لیے اہم شخصیات کو ٹاسک دے دیا گیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری فی الحال گلگت بلتستان میں الیکشن مہم میں مصروف ہیں، بلاول بھٹو زرداری کو منانے کے بعد ہی بجٹ اجلاس کی نئی تاریخ دی جا سکے گی۔وزارت خزانہ میں پیپلز پارٹی اور حکومتی ٹیم کے درمیان اجلاس ختم ہو گیا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے خدشات دور نہ کئے جا سکے۔ پی پی اور حکومتی ٹیم کا اجلاس آج دوبارہ ہو گا۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو