پشاور پولیس کی بڑی کارروائی، دہشت گردی سمیت سنگین جرائم میں مطلوب ملزم ساتھیوں سمیت ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
پشاور پولیس نے ایک بڑی کارروائی کے دوران دہشت گردی، قتل، اقدامِ قتل، بھتہ خوری اور پولیس پر حملوں سمیت 13 سنگین مقدمات میں مطلوب خطرناک مجرم آدم عرف آدمے کو تین ساتھیوں سمیت ہلاک کردیا۔
پولیس کے مطابق کارروائی گزشتہ شب پنڈی واہ کے علاقے کوہستان کالونی میں کی گئی، جہاں ملزم طویل عرصے سے روپوش تھا۔
ترجمان پشاور پولیس کے مطابق پولیس ٹیم نے تین گھنٹے تک جاری رہنے والے مقابلے میں انتہائی خطرناک گروہ کو انجام تک پہنچایا۔
ہلاک ہونے والا ملزم آدم عرف آدمے نہ صرف متعدد سنگین مقدمات میں مطلوب تھا بلکہ اس نے سوشل میڈیا پر بھی پولیس افسران کو کھلے عام چیلنج کیا تھا۔
پولیس ریکارڈ کے مطابق ملزم کے خلاف درج مقدمات میں سی ٹی ڈی اور مختلف تھانوں کے تحت دہشت گردی، قتل، اقدام قتل، بھتہ خوری، پولیس پر حملہ اور شہریوں سے لوٹ مار کے کیسز شامل تھے۔ اس کے علاوہ ملزم کے خلاف انسداد دہشت گردی کی دفعات کے تحت بھی تین مقدمات درج تھے۔
پولیس کے مطابق ملزم آدم عرف آدمے اور اس کے ساتھی شہریوں، تاجروں اور پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے لیے سرگرم تھے۔ متعدد کارروائیوں کے دوران اس گروہ نے فائرنگ کرکے پولیس اہلکاروں کو زخمی بھی کیا۔
ترجمان پشاور پولیس نے بتایا کہ ’’آدم عرف آدمے پولیس کو طویل عرصے سے مطلوب تھا، جو سوشل میڈیا پر ویڈیوز اور پیغامات کے ذریعے پولیس کو للکارتا اور خوف پھیلاتا تھا۔ آج کی کارروائی کے بعد پشاور میں امن و امان کے لیے ایک بڑا خطرہ ختم ہوگیا ہے۔‘‘
پشاور پولیس حکام نے اس کامیاب آپریشن پر ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے پولیس کی کارروائیاں اسی عزم کے ساتھ جاری رہیں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔