پی پی کی جانب سے سیز فائر کی بات، ہر گھنٹے ہوائی فائرنگ ہوتی ہے: عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
لاہور (نوائے وقت رپورٹ) وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے بیانات پر ردعمل میں کہا ہے کہ ایک طرف وہ سیز فائر کی بات کرتے ہیں، دوسری طرف ہر گھنٹے بعد ہوائی فائرنگ کے لیے آجاتے ہیں۔ ‘‘ شعلے اگلتی زبانوں کے ساتھ ہم سے سیز فائر کی امید کیسے رکھی جا سکتی ہے؟’’ انہوں نے واضح کیا کہ اس دوہرے رویے سے مفاہمت کا کوئی سنجیدہ پیغام نہیں ملتا۔ روزانہ جسے دیکھو، وہ جھاڑ پونچھ کر گھر سے نکلتا ہے، مائیک کے سامنے بیٹھ کر گالیاں اور الزامات کی بوچھاڑ شروع کر دیتا ہے، پھر انہی حالات میں مفاہمت کی باتیں کی جاتی ہیں۔ ‘‘جب ہم معمولی سا جواب دیں تو وہ رونے بیٹھ جاتے ہیں۔ یہ رویہ سیاسی بلوغت کے منافی ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما ہمیں جمہوریت کے لیکچر نہ دیں۔ ‘‘جمہوریت کے بوجھ کو انہوں نے کبھی اپنے نازک کندھوں پر نہیں اٹھایا، یہ بوجھ ہماری قیادت اور کارکنوں نے برسوں اٹھایا ہے۔ اگر دن رات ہماری قیادت پر حملے کیے جائیں گے تو ہم پھولوں کے ہار نہیں پہنائیں گے۔ ‘‘یہ ہماری پارٹی اور قیادت کی اعلیٰ ظرفی ہے کہ ذاتی حملوں کے باوجود خاموشی اور برداشت کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے۔ سندھ کسی وڈیرے کی جاگیر نہیں جسے وہ ہر فورم پر ‘‘سندھو دیش’’ کہہ کر پیش کرتے ہیں۔ ‘‘پنجاب کے خلاف زبانی گولہ باری اور نفرت آمیز بیانیے سے باز آنا ہو گا۔ ہم سیاسی اختلاف کو محاذ آرائی میں نہیں بدلنا چاہتے، لیکن یکطرفہ حملوں پر مسلسل خاموشی ممکن نہیں۔ پنجاب حکومت سیلاب متاثرین کی بحالی کے کاموں پر اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر رہی ہے، لیکن بعض سیاسی جماعتوں کی جانب سے بلاجواز الزام تراشی اور صوبائیت کا کارڈ کھیلنا افسوسناک ہے۔ پنجاب نہ کسی محاذ آرائی کا حصہ بنا ہے اور نہ بنے گا، ہمارا فوکس صرف متاثرین کی مدد اور بحالی ہے۔ سندھ حکومت یا پیپلز پارٹی نے اب تک کسی عملی مدد یا تعاون کی کوئی مثال پیش نہیں کی، اس کے باوجود پنجاب کے معاملات میں بے جا مداخلت اور الزام تراشی کی جا رہی ہے۔ ‘‘ہر صوبے کو اپنا آئینی و انتظامی کردار ادا کرنا چاہیے۔ پنجاب اپنے حصے کا کام پوری دیانتداری سے کر رہا ہے، کسی کو اس میں رکاوٹ نہیں ڈالنے دیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔