پاکستان اور امریکا نے عسکری اور اقتصادی تعلقات دوبارہ استوار کرلیے ہیں.محمد اورنگزیب
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔02 اکتوبر ۔2025 ) وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان اور امریکا نے عسکری اور اقتصادی تعلقات دوبارہ استوار کر لئے اور توانائی، مائننگ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے امریکی جریدے بلوم برگ سے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاک امریکا عسکری اور اقتصادی تعلقات پھر استوار ہوگئے ہیں، توانائی، کان کنی اور ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھا رہے ہیں.
(جاری ہے)
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حکومت رواں ماہ واشنگٹن میں سرمایہ کاری کانفرنس منعقد کرے گی، جس میں امریکا سے سرمایہ کاری کےلئے واضح سیکٹرز کی نشاندہی کی گئی ہے وزیر خزانہ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عظیم شخصیات قرار دیا ہے. وزیر خزانہ نے بتایا کہ امریکا کے ساتھ نئے تجارتی معاہدے کے تحت 19 فیصد ٹیرف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ پاکستان کا ٹیرف بھارت سے کم ہے، جس سے برآمدی مسابقت میں اضافہ ہوگا ان کا کہنا تھا کہ ایم ڈی آئی ایم ایف نے بھی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں اصلاحات پر پیش رفت کو تسلی بخش قرار دیا ہے اس کے ساتھ ہی عالمی ریٹنگ ایجنسیز ایس اینڈ پی گلوبل، فچ اور موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگز اپ گریڈ کر دی ہیں، جسے ملکی معیشت کے لئے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔