بنگلادیش نے چین سے 20 جے 10 سی طیارے خریدنے کا فیصلہ کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
ڈھاکا(نیوز ڈیسک) بنگلادیش نے اپنی فضائیہ کو جدید بنانے اور قومی فضائی دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے چین سے 20 جدید جے 10 سی لڑاکا طیارے خریدنے کا فیصلہ کرلیا۔
بنگلادیشی میڈیا کا کہنا ہے کہ سرکاری دستاویزات کے مطابق لڑاکا طیاروں کی خریداری کے معاہدے کی کل مالیت تقریباً 2 ارب 20 کروڑ ڈالر ہوگی جس میں طیاروں کی خریداری، پائلٹس کی تربیت، طیاروں کی دیکھ بھال اور دیگر متعلقہ اخراجات بھی شامل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ خریداری گورنمنٹ ٹو گورنمنٹ معاہدے کے تحت مالی سال26-2025 اور 27-2026کے دوران مکمل کیے جانے کا امکان ہے جبکہ ادائیگیاں 36-2035 تک 10 سالہ اقساط میں کی جائیں گی۔
چینی جریدے گلوبل ٹائمز کے مطابق جے 10 سی فورتھ جنریشن ملٹی رول لڑاکا طیارہ ہے جو فضائی اور زمینی اہداف کے خلاف مختلف نوعیت کے مشن انجام دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
یہ طیارہ آواز کی رفتار سے 2.
بنگلادیش کے چیف ایڈوائزر کے دفتر کا کہنا ہے کہ ہر طیارے کی بنیادی قیمت 6 کروڑ ڈالر مقرر کی گئی ہے جس کے مطابق مجموعی بیڑے کی قیمت 1.2 ارب ڈالر بنتی ہے جبکہ اضافی اخراجات تربیت، آلات اور نقل و حمل پر خرچ کیے جائیں گے۔
بنگلادیشی حکومت نے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے 11 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔
خیال رہے کہ مئی میں پاک بھارت فضائی جنگ میں پاکستان کی برتری اور جے 10 سی طیارے کی بہترین کارکردگی کے بعد کئی ممالک نے اس طیارے میں دلچسپی ظاہر کی تھی۔
بنگلادیشی میڈیا کے مطابق فی الحال بنگلادیشی فضائیہ کے پاس 212 طیارے موجود ہیں، جن میں سے 44 لڑاکا طیارے ہیں۔ ان میں 36 چینی ساختہ ایف7 طیارے، 8 روسی MiG-29B کثیر المقاصد لڑاکا طیارے اور Yak-130 لائٹ اٹیک ائیرکرافٹ بھی شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے مطابق
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔
ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم