Jasarat News:
2026-07-24@10:59:25 GMT

طلبہ گوگل سے ایک سالہ سبسکرپشن مفت حاصل کر سکتے ہیں

اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(کامرس رپورٹر)گوگل نے آج پاکستانی طلباء کے لیے ایک شاندار تعلیمی پیشکش کا اعلان کیا ہے،جس کے تحت 18 سال یا اْس سے زائد عمر کے طلبائگوگل اے آئی پرو پلان (Google AI Pro Plan)کی ایک سالہ سبسکرپشن مفت حاصل کر سکتے ہیں۔یہ بلا معاوضہ پیشکش طلباء کو جدید اے آئی ٹولز کے ذریعے اپنی تعلیم، تحقیق، اور تخلیقی صلاحیتوں کو بہتر بنانے میں مدد فراہم کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔ جیمینائی اے آئی پرو پلان (Gemini AI Pro Plan)کے تحت، 18 سال یا اس سے زائد عمر کے طلباء گوگل کی جدید ترین اے آئی خصوصیات تک رسائی حاصل کر سکیں گے، جن میں درج ذیل فیچرز شامل ہیں: جیمنائی 2.

5 پرو ماڈل کے ذریعے ہمارے جدیدترین ماڈل تک زیادہ سطح کی رسائی فراہم کی جائے گی، تاکہ طلباء ڈیپ ریسرچ جیسے فیچرز استعمال کر سکیں جو اسائنمنٹس، تحقیق، اور تخلیقی منصوبوں میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔جیمنائی گوگل ایپس کی صورت میںاے آئی کی معاونت کو براہِ راست جی میل، شیٹس، ڈاکس(Docs) سلائیڈز اور میٹ (Meet)میں میں شامل کیاگیاہیتاکہ طلباء ای میلز کا خلاصہ تیار کر سکیں، مطالعے کے لیے پریزنٹیشنز بنا سکیں، اور ڈیٹا کو زیادہ مؤثر طریقے سے تجزیہ کر سکیں۔نوٹ بک ایل ایم(NotebookLM) :گوگل کا ذاتی نوعیت کا، اے آئیکی قوت سے چلنے والا تحقیق اور تحریر کا ٹول، جو طلباء کو 5 گنا زیادہ آڈیو اوورویوز، نوٹ بْکس اور دیگر فیچرز فراہم کرتا ہے۔ کریایٹ ڈائنامک ویڈیوز:تحریریا تصاویر سے کام لینے کے لیے زیادہ حدود کے ساتھ جدید ٹولز تک رسائی حاصل ہوگی، جن میںجیمنائی میں شاملVeo 3 اور Flow جیسے فیچرز شامل ہیں۔ 2TBکلاؤڈ اسٹوریج:طلباء کو گوگل ڈرائیو، جی میل اور فوٹوز میں وافر اسٹوریج فراہم کی جائے گی، تاکہ وہ اپنے نوٹس، پراجیکٹس، اور دیگر تعلیمی مواد کو عمدہ طریقے سے محفوظ اور اسٹور کر سکیں۔یہ پیشکش گوگل کے اْس وسیعترمشن کا حصہ ہے جس کا مقصد ہر طالب علم کو ایسے اے آئی ٹولز فراہم کرنا ہے جن کی انہیں اپنی تعلیم کو پیش رفت اور تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے ضرورت ہے۔جیمینائی اے آئی پرو پلان اب،پاکستان سمیت، ایشیا پیسفک خطے کے متعدد ممالک میں دستیابہے۔ یونیورسٹیکے اہل طلباء مفت ایک سال تک کی رسائی کے لییسیاسی بے یقینی کی وجہ صنعت و تجارت اور معیشت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں لہذا قومی مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح دی جائے۔ صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمن سہگل نے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے درمیان محاذ آرائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کے لیے کسی طرح بھی اچھا شگون نہیں ہے۔

کامرس رپورٹر گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کر سکیں اے ا ئی کے لیے

پڑھیں:

حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔

یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔

عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔

اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔

حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔

مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ

متعلقہ مضامین

  • پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ، ہمسایہ ملک وسائل فراہم کر رہا ہے: وزیراعظم
  • ایران جنگ، امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں 5 سال لگ سکتے ہیں، سابق پینٹاگون عہدیدار
  • 10 لاکھ تک بِلا سود قرضہ کیسے حاصل کریں؟ درخواست دینے کا طریقہ جانیے
  • پی ٹی اے کی موبائل سمز سے متعلق اہم وارننگ
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت