بھارت کا ایشیا کپ ٹرافی تنازع آئی سی سی میں اٹھانے کا اعلان، ٹرافی کو ہاتھ لگایا جائے اور نہ ادھر ادھر کی جائے
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
بھارت کا ایشیا کپ ٹرافی تنازع آئی سی سی میں اٹھانے کا اعلان، ٹرافی کو ہاتھ لگایا جائے اور نہ ادھر ادھر کی جائے WhatsAppFacebookTwitter 0 10 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (آئی پی ایس )بھارت کے انکار کے بعد ایشیا کپ 2025 کی ٹرافی کو دبئی میں تالے میں رکھ دیا گیا، ایشین کرکٹ کونسل کے صدر محسن نقوی کی سخت ہدایات پر ٹرافی اے سی سی کے آفس میں موجود ہے اور انہوں نے ہدایت کی ٹرافی کو ہاتھ لگایا جائے نہ ادھر ادھر کی جائے، بھارتی ٹیم جب چاہیے ٹرافی آکرمیرے ہاتھ سے لے سکتی ہے، جب بھی پلان ہو بتا دیا جائے۔ دوسری جانب بی سی سی آئی نے معاملہ آئی سی سی اجلاس میں اٹھانے کی تیاری شروع کردی ہے۔
بھارتی نشریاتی ادارے این ڈی ٹی وی کے مطابق متحدہ عرب امارت میں کھیلے گئے ایشیا کپ 2025 کی ٹرافی جو بھارتی ٹیم نے ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) کے صدر محسن نقوی سے لینے سے انکار کر دیا تھا تاحال دبئی میں اے سی سی کے ہیڈ کوارٹرز میں بند ہے۔ذرائع کے مطابق محسن نقوی کی جانب سے واضح ہدایات دی گئی ہیں کہ ٹرافی کو چیئرمین کی اجازت اور موجودگی کے بغیر نہ ہلایا جائے اور نہ ہی کسی کے حوالے کیا جائے۔
یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب بھارتی ٹیم نے 28 ستمبر کو دبئی میں ہونے والے فائنل میں پاکستان کو شکست دے کر ایشیا کپ جیتا مگر پریزنٹیشن تقریب کے دوران محسن نقوی سے ٹرافی لینے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد نقوی خود ٹرافی لے کر تقریب سے چلے گئے، جو اب تک اے سی سی کے دفتر میں موجود ہے۔
محسن نقوی جو پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین اور اپنے ملک کے وزیر داخلہ بھی ہیں، اس وقت بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں ایک متنازع شخصیت کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ پہلگام دہشت گرد حملے کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات مزید بگڑ گئے ہیں۔
ایشین کرکٹ کونسل سے وابستہ ایک ذریعے کے مطابق، محسن نقوی نے سخت ہدایت جاری کی ہے کہ ٹرافی ان کی منظوری کے بغیر کسی کو نہ دی جائے، وہ خود ذاتی طور پر یہ ٹرافی بھارتی ٹیم یا بی سی سی آئی کو دیں گے، جب بھی یہ موقع آئے گا۔پورا ایشیا کپ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے باعث تنازعات کی زد میں رہا۔ بھارتی کھلاڑیوں نے پورے ٹورنامنٹ کے دوران پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے سے انکار کیا اور دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں نے سیاسی اشاروں کے ذریعے ایک دوسرے کا مذاق اڑایا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرکابل کی خودمختار علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی گئی، افغانستان کا پاکستان پر الزام کابل کی خودمختار علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کی گئی، افغانستان کا پاکستان پر الزام سینئر سفارت کار طاہر حسین اندرابی کو نیا ترجمان دفتر خارجہ مقرر کرنے کا فیصلہ وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ایتھوپیا کے پاکستان میں سفیر جمیل بیکر عبدللہ کی الوداعی ملاقات جواب دہی کے بغیر امن ایک سراب بن کر رہ جاتا ہے،پاکستان کمیٹی نے امن پر سیاست کو ترجیح دی، نوبیل انعام پر وائٹ ہا ئو س برہم جتھوں کی سیاست کے ذریعے مطالبات منوانے کی کوئی گنجائش نہیں: حکومتCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔