Express News:
2026-06-03@05:13:24 GMT

بھارت و پاکستان کی ایک اور ممکنہ جنگ ؟

اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT

کیا بھارت اور پاکستان کی ایک اور جنگ ہونے جا رہی ہے؟ اس سوال کا تعلق مستقبل سے ہے اور غیب کا علم تو صرف اللہ تعالٰی کی ذات کو ہے۔ عام طور پر اگرکسی دو ممالک میں جنگ ہونے والی ہوتی ہے تو اس کا علم یا تو ان دونوں ممالک کی قیادت اور افواج کے پاس ہوتا ہے یا پھر جنگ رکوانے والے ملک کے پاس ہوتا ہے کہ جس کو آپ جنگ کروانے والا ملک بھی کہہ سکتے ہیں۔

جنگ رکوانے والے ملک کے پاس اس لیے کہ اس کو جنگ لڑنے والے ممالک سے زیادہ تیاری کرنی پڑتی ہے تاکہ صحیح وقت پر جنگ کو روکا جاسکے کہ جس کا مظاہرہ ہم تمام حالیہ جنگوں میں دیکھ بھی چکے ہیں اور دیکھ بھی رہے ہیں۔

کچھ تجزیہ نگاروں کے حساب سے تو یہ جنگ ستمبر میں ہی شروع ہوجانی چاہیے تھی۔ اب ہم اس بات پر آتے ہیں کہ یہ جنگ ممکنہ کیوں ہے؟ یہ بات اب کھل کر سامنے آرہی ہے کہ پہلگام والا واقعہ بھارتی اور اسرائیلی خفیہ اداروں کی کارروائی تھی اور اس کو جواز بنا کر ہندوستان پاکستان پر حملہ آور ہوا۔

پہلگام والے واقعے سے پہلے ہندوستان نے خود کو خطے کا ’’چوہدری‘‘ سمجھنا شروع کردیا تھا اور چین کو بھی پیغام دے رہا تھا کہ اب حالات 1962 والے نہیں ہے کہ جس میں چین اور ہندوستان کی جنگ ہوئی تھی اور آج کا ہندوستان اس وقت کے ہندوستان سے بہت مختلف ہے۔

سلامتی کونسل کے مستقل رکن کی کرسی ان کو اپنی دسترس میں نظر آرہی تھی۔ پشت پر امریکا کھڑا تھا اور پورا یورپ اس کے گرد ہالہ کیے ہوا تھا۔ روسی تیل کے کاروبار سے چاروں طرف سے ہن برس رہا تھا، گویا پانچوں انگلیاں گھی میں اور سرکڑاہی میں تھا۔

اسی زعم میں آکر ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کردیا لیکن پاکستان کے جواب نے اس کے چودہ طبق روشن کر دیے،گویا کسی نے کڑاہی کے نیچے آگ جلا کر اس میں ہندوستان کا سر دے دیا۔ ہندوستان کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا کہ پاکستان ایسا جواب دے گا۔

اپنے حملے کے بعد اس نے تمام سفارتی ذرایع سے پاکستان پر دباؤ ڈالا کہ وہ اس حملے کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لے اور جواب نہ دے۔ ہمارے اپنے برادر ملکوں نے ہمیں جواب نہ دینے کا مشورہ دیا لیکن ہماری بہادر افواج نے اس حملے کا وہ دندان شکن جواب دیا، آپریشن بنیان مرصوص کے ذریعے کہ ہندوستان آج تک نہ صرف وہ زخم چاٹ رہا ہے بلکہ مستقل بلبلا بھی رہا ہے۔

اس جنگ میں چونکہ اسرائیل اور ہندوستان اتحادی تھے تو اسرائیل نے تو قطر میں حماس پر حملہ کر کے اپنی جنگی ساکھ بحال کرنے کی ناکام کوشش کی ہے اور اب ہندوستان بھی اپنی ساکھ بحال کرنے کا موقعہ تلاش کر رہا ہے۔

ہندوستان اس حد تک پاگل ہوچکا ہے کہ وہ اس جنگ کو کھیل کے میدانوں تک لے گیا ہے اور وہ کھیل جو کبھی جنٹلمین یا شرفاء کا کھیل سمجھا جاتا تھا، اب کھیل نہیں بلکہ جنگ بن چکا ہے اور یہ میں نہیں بلکہ ہندوستان کا وزیر اعظم کہہ رہا ہے کہ ہم آپریشن سندور کوکھیل کے میدانوں تک لے گئے ہیں۔

مجھے مودی کی تقریر کا ایک کلپ سننے کا اتفاق ہوا ہے جو سماجی ذرایع ابلاغ پر ہے کہ جس میں مودی پاکستان کے لوگوں کو مخاطب کر کے کہہ رہا ہے کہ ’’ آپ کے جنرل کا مجھ پر ایسا قرض ہے جو میں نے ہر قیمت پر چکتا کرنا ہے۔

آپ کے جنرل نے جو کانڈ کیا ہے مودی کی آتما اب تک بدلے کی آگ میں جل رہی ہے۔‘‘ میرے خیال سے تو اس کی آتما اس وقت جلتی رہے گی جب تک کہ اس کا جسم کہ جس کو یہ لوگ شریرکہتے ہیں، آگ میں نہیں جل جاتا۔ اس نے مزید یہ کہا ہے کہ ’’ وہ اب بدلہ لیے بغیر رکنے والا نہیں ہے اور جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے اور ابھی جاری ہے اور اب ہم پوری تیاری کے ساتھ پاکستانی فوج پر حملہ کریں گے۔‘‘

ہندوستانی وزیراعظم کے اس بیان کو اور ان کی فوج کے سربراہ کے حالیہ بیان کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اور ہماری فوج کے ترجمان اور ہمارے وزیر دفاع نے اس کا منہ توڑ جواب دیا ہے۔

ایک بات تو طے ہے کہ اس دفعہ مختصر جنگ نہیں ہوگی۔ جنگ مختصر ہونے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ہندوستان کوئی کارروائی کرے اور ہم اسے برداشت کر جائے۔ فوج کے ترجمان اور وزیر دفاع کہہ چکے ہیں کہ اس دفعہ کسی بھی قسم کی مہم جوئی کا جواب پہلے سے بھی زیادہ شدید اور سخت ہوگا۔

گویا یہ تو طے ہوگیا کہ جنگ طویل ہوگی۔ اس جنگ میں ہمیں دنیا کا بالعموم اور چین کا بالخصوص تعاون درکار ہوگا۔ دنیا کے تعاون کے لیے ابھی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ سیر سپاٹے نہیں بلکہ سنجیدہ کام کی ضرورت ہے۔ مغربی دنیا لگا تار ایسی کوششیں کر رہی ہے کہ ہمارے اور چین کے درمیان اعتماد کی فضا متزلزل ہوجائے۔

امریکا کو اڈا دینے کی افواہ اس کی کڑی ہے کہ جس پر چین کی جانب سے شدید رد عمل آیا۔ یہ وقت ہماری قیادت سے انتہائی اعلیٰ درجے کی سفارت کاری، دانش مندی اور برد باری کا متقاضی ہے لیکن جب ہم اپنے سیاستدانوں کی جانب دیکھتے ہیں اور ان کی آپس کی چپقلش اتنے اہم وقت پر قوم کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں دے رہی ہے۔ اس وقت ان کی صفوں میں اتحاد ہونا چاہیے اور دشمن کے خلاف ہمیں بنیان مرصوص بننے کی ضرورت ہے۔

آخر میں تھوڑی سی بات جنگ کے حوالے سے اور اختتام۔ جنگ کے عام طور پر تین میدان ہوتے ہیں۔ سمندر، فضا اور زمینی جنگ۔ حالیہ معرکے کے بعد میرا نہیں خیال کہ ہندوستان دوبارہ فضا سے اس کا آغاز کرے گا۔

پتہ نہیں کیوں مجھے یہ لگ رہا ہے کہ اس دفعہ اس کا آغاز سمندر اور زمین سے ہوگا اور ہندوستان میزائل پر زیادہ انحصارکرے گا،کیونکہ پچھلی دفعہ وہ ڈرون کا انجام دیکھ چکے ہیں۔ فضائیہ کا کردار دفاعی ہوگا اور وہ اپنے زمینی اور سمندری اثاثوں کی حفاظت پر زیادہ مامور ہوں گے۔

مودی نے یہ بھی دھمکی دی ہے کہ اس دفعہ یہ لوگ بھرپور تیاری کے ساتھ حملہ کریں گے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ ہماری بہادر افواج کی بھی تیاریاں مکمل ہوں گی لیکن خیال رہے کہ یہ ایک اور دس کا مقابلہ ہے۔ ہمارا دفاعی بجٹ ساٹھ یا باسٹھ ارب ڈالرز ہے اور ہندوستان کا دفاعی بجٹ چھ سو سے زائد ارب ڈالرزکا ہے۔

ایسا ہی تناسب ان کے اور ہمارے کل بجٹ میں ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں تو یہ تناسب اور بھی زیادہ ہے۔ جنگ صرف اسلحے اور آلات کی ہی جنگ نہیں ہوتی، اصل جنگ تو جذبے کی جنگ ہوتی ہے کہ جس میں ہمارے بہادر جوانوں کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔

جنگ کے سخت لمحات میں ہندوستانیوں کو اپنی فیملی یاد آجاتی ہے یقین نہ آئے تو ابھی نندن کے جوابات پڑھ لیجیے جب کہ ایسے لمحات میں ہمارے شیر شہادت کا سوچتے ہیں اور وہ جن کی نئی نئی شادی ہوئی ہوتی ہے وہ بھی ہنستے ہوئے شہادت کو گلے لگا لیتے ہیں۔

اس جذبے، ہمت اور جرآت کے بعد آپ کو جنگ کا نتیجہ سمجھنے میں مشکل نہیں ہونی چاہیے۔ ’’ اگر ‘‘ یہ جنگ ہوئی تو فوج تو پوری طرح تیار ہیں۔ کیا قوم اور سیاستدان بھی اس کے لیے اسی طرح تیار ہے اگر وقت ملے تو اس پر ضرور سوچیے گا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اور ہندوستان کہ ہندوستان ہندوستان ا کہ اس دفعہ ہے کہ جس حملہ کر پر حملہ ہے اور رہا ہے رہی ہے اور ہم یہ جنگ

پڑھیں:

ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف

پاکستان کرکٹ ٹیم کے وائٹ بال ہیڈ کوچ مائیک ہیسن نے آسٹریلیا کے خلاف جاری ون ڈے سیریز میں استعمال ہونے والی اسپن فرینڈلی وکٹوں پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ سنہ 2027 ورلڈ کپ کی تیاریوں کے لیے ٹیم کی حکمت عملی جامع تحقیق اور مختلف حالات کے جائزے پر مبنی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ون ڈے ٹیم کی تشکیل پر مسلسل کام جاری، ورلڈ کپ کو ہدف بنایا لیا، مائیک ہیسن

پاکستان نے 3 میچوں کی سیریز کے پہلے ون ڈے میں کم اسکور والے سنسنی خیز مقابلے کے بعد 0-1 کی برتری حاصل کر رکھی ہے تاہم بعض کرکٹ مبصرین نے سوال اٹھایا تھا کہ آیا سست اور اسپن بولنگ کے لیے سازگار وکٹیں ٹیم کو 2027 کے ورلڈ کپ کے لیے مؤثر تیاری فراہم کر سکیں گی یا نہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں مائیک ہیسن نے کہا کہ یہ تصور درست نہیں کہ جنوبی افریقا کی تمام وکٹیں تیز اور باؤنس والی ہوتی ہیں۔

’ورلڈ کپ 2027 کے لیے ٹیم کی تیاری: پاکستانی وکٹیں موزوں ہیں‘

انہوں نے لکھا کہ میں یہ باتیں سن رہا ہوں کہ پاکستان میں موجودہ وکٹیں جنوبی افریقہ میں ہونے والے ورلڈ کپ کی تیاری کے لیے موزوں نہیں ہیں لیکن حقیقت اس سے مختلف ہے۔

I've been hearing a bit of chatter about the pitches here in Pakistan not being the ideal preparation for the World Cup in South Africa. It’s actually a topic I talked about on the latest #PCB podcast.

Firstly the World Cup is jointly hosted in South Africa, Zimbabwe and…

— Mike Hesson (@CoachHesson) June 1, 2026

ہیسن نے یاد دلایا کہ سنہ 2027 کا آئی سی سی مینز کرکٹ ورلڈ کپ صرف جنوبی افریقا میں نہیں بلکہ زمبابوے اور نمیبیا میں بھی کھیلا جائے گا جہاں متعدد میدانوں پر اسپنرز کو نمایاں مدد ملتی ہے۔

مزید پڑھیے: ورلڈ کپ سے قبل پاور پلے اور مڈل اوورز میں بہتری ضروری ہے، ہیڈ کوچ مائیک ہیسن

انہوں نے کہا کہ زمبابوے اور نمیبیا میں ایسے کئی وینیوز موجود ہیں جہاں اسپن ایک اہم عنصر ہوتا ہے اور پاکستان کو وہاں بھی میچز کھیلنے ہیں۔

پاکستانی ٹیم کے ہیڈ کوچ نے سال 2024 میں جنوبی افریقا کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پارل میں کھیلے گئے ون ڈے میچ میں بھی اسپن بولنگ نے اہم کردار ادا کیا تھا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ جنوبی افریقہ کی تمام وکٹوں کو یکساں طور پر تیز اور باؤنس والی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ تاثر کہ جنوبی افریقا کی ہر وکٹ رفتار اور باؤنس کے لیے مشہور ہے حقیقت پر مبنی نہیں۔

مزید پڑھیں: دوسرا ون ڈے: آسٹریلیا کی پاکستان کے خلاف بیٹنگ جاری

نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے کوچ نے شائقین کو یقین دلایا کہ ٹیم مینجمنٹ نے ورلڈ کپ کے حوالے سے تفصیلی تحقیق کی ہے اور آئندہ 18 ماہ کے دوران مختلف حالات اور وکٹوں پر کھیلنے کی بھرپور تیاری کی جائے گی تاکہ پاکستان عالمی ایونٹ کے لیے ہر ممکن طور پر تیار ہو۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پاکستان کی اسپن فرینڈلی وکٹس پاکستان کی سلو وکٹس پاکستانی پچز پاکستانی وکٹس مائیک ہیسن ورلڈ کرکٹ کپ 2027

متعلقہ مضامین

  • میسی اور رونالڈو کے ممکنہ آخری عالمی امتحان سمیت ورلڈ کپ 2026 کا عظیم آغاز قریب
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • ورلڈ کپ تیاریوں کے لیے سست وکٹوں پر تنقید مسترد، مائیک ہیسن کا دوٹوک مؤقف
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی