بدلے کی آگ میں سلگتا مودی
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
مودی کا یہ کہنا کہ ’’میں بدلے کی آگ میں جل رہا ہوں، پاکستانی آرمی چیف میرا اصل ٹارگٹ ہے‘‘۔ اْس کے ذہنی انتشار، نفرت اور شکست خوردگی کی واضح علامت ہے۔ یہ جملہ صرف سیاسی غصے کا اظہار نہیں بلکہ اْس احساسِ ہزیمت کی جھلک ہے جو پاکستان کی عسکری کامیابیوں نے بھارت کے دل میں پیدا کی ہے۔ بھارت کے حکمرانوں کے لیے سب سے بڑا صدمہ یہ ہے کہ وہ ہر سازش، ہر پروپیگنڈا اور ہر دباؤ کے باوجود پاکستان کو کمزور نہیں کر سکے۔ رافیل کا غرور خاک میں ملنا مودی کے تکبر کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا۔ پاکستان ایک ذمے دار ریاست ہے۔ ہماری فوج اور سیاسی قیادت ہمیشہ امن چاہتی ہے، لیکن امن کمزوری سے نہیں، طاقت سے قائم ہوتا ہے۔ مودی کی حکومت نے جب بھی پاکستان پر الزام تراشی کی، اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی اندرونی سیاسی مقصد چھپا ہوتا ہے۔ کبھی وہ کشمیر میں ناکامی چھپانے کے لیے پاکستان پر حملے کی بات کرتا ہے، کبھی انتخابی سیاست میں فائدہ اٹھانے کے لیے جنگی جنون بھڑکاتا ہے۔ مگر پاکستان نے ہمیشہ تحمل اور تدبر کے ساتھ جواب دیا۔ تاہم، جب دشمن نے حد پار کی، تو ہماری افواج نے وہ جواب دیا جو تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔
پاکستانی قوم جانتی ہے کہ بھارت کا اصل مسئلہ پاکستان کی جغرافیائی نہیں بلکہ نظریاتی طاقت ہے۔ دو قومی نظریہ آج بھی بھارت کے سینے میں کانٹے کی طرح چبھتا ہے۔ وہ یہ ماننے کو تیار ہی نہیں کہ ایک مسلمان قوم اپنی الگ شناخت کے ساتھ دنیا کے نقشے پر موجود ہے، جو اسلام، غیرت اور خودداری پر یقین رکھتی ہے۔ یہی نظریہ آج بھارت کی آنکھوں میں چبھن بن کر ہے۔ بدقسمتی سے، ہمارے ملک کے اندر بھی کچھ ایسے طبقات ہیں جو بھارت کے بیانیے کو دانستہ یا نادانستہ تقویت دیتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو امن کے نام پر دشمن کی مکاری کو بھول جاتے ہیں۔ کبھی وہ ’’امن کی آشا‘‘ کے نغمے گاتے ہیں، کبھی بھارت کو ’’موسٹ فیورٹ نیشن‘‘ قرار دینے کی بات کرتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ مذاکرات سے سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا، مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات ہمیشہ یکطرفہ رہے ہیں۔ وہ ہمیں دھوکا دیتا ہے، اور ہم اس کے فریب کو امن کا نام دیتے ہیں۔
78 سال میں بھارت نے کبھی پاکستان کے وجود کو دل سے قبول نہیں کیا۔ اْس نے ہر ممکن کوشش کی کہ ہمیں سیاسی، عسکری اور سفارتی طور پر کمزور کیا جا سکے۔ اْس نے مشرقی پاکستان کو علٰیحدہ کیا، کشمیر پر قبضہ جمایا، سیاچن پر حملہ کیا، کارگل کا جھوٹا شور مچایا، اور ہر بار پاکستان کو عالمی دباؤ میں لانے کی کوشش کی۔ مگر جب پاکستان نے دشمن کے خلاف عملی جواب دیا، تو وہ چیخ اٹھے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ بھارت نے ہمیشہ پاکستان کے اندر انتشار پیدا کرنے کی کوشش کی۔ بلوچستان، کراچی، اور گلگت بلتستان میں بھارتی خفیہ ایجنسیاں تخریب کاری کے منصوبے بناتی رہیں۔ مگر ان تمام سازشوں کے باوجود پاکستان قائم ہے اور ترقی کی راہوں پر گامزن ہے۔ حالیہ برسوں میں یہ خبریں گردش میں رہیں کہ بھارت نے کچھ پاکستانی سیاسی حلقوں سے خفیہ طور پر رابطے کیے۔ اور دہشت گرد تنظیموں کے مبینہ ٹھکانوں پر حملوں کے سلسلے میں تعاون کی بات کی گئی۔ اگر یہ درست ہے تو یہ انتہائی سنگین معاملہ ہے، جو قومی خودمختاری پر سوال اٹھاتا ہے۔ اسی تناظر میں رانا ثناء اللہ کا بیان یاد آتا ہے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ’’بھائی، اگر انڈیا نے ہم پر حملہ نہ کیا تو ہم کوئی جواب نہیں دیں گے‘‘۔ اس قسم کے جملے دشمن کو شہہ دیتے ہیں اور قوم کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف غیر ذمے دارانہ ہے بلکہ اس سے پاکستان کا دفاعی موقف کمزور دکھائی دیتا ہے۔ اسی دوران آئی ایس پی آر کے ایک افسر کا دو ٹوک بیان آیا: ’’جواب دینا ہمارا حق ہے۔ کب اور کیسے دیں گے، یہ مودی کو پتا چل جائے گا‘‘۔ یہ جملہ صرف ایک بیان نہیں بلکہ پوری قوم کی آواز تھا۔ یہ اعلان تھا کہ پاکستان کسی کے دباؤ میں آنے والا ملک نہیں۔ ہم اپنی سلامتی اور خودمختاری کا تحفظ ہر قیمت پر کریں گے۔
مودی کے یار آج بھی مختلف چہروں میں چھپے ہوئے ہیں۔ کبھی وہ لبرل ازم کے نام پر بولتے ہیں، کبھی جمہوریت کی آڑ میں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کا خواب محض ایک فریب ہے۔ ہر بار بھارت نے مذاکرات کے نام پر وقت ضائع کیا، اور کشمیر کے مسئلے کو دبانے کی کوشش کی۔ مودی نے خود اعتراف کیا کہ وہ آر ایس ایس کے نظریے کا پیروکار ہے۔ اْس کے نزدیک پاکستان سے دشمنی ایمان کا حصہ ہے۔ ایسے شخص سے خیر کی توقع رکھنا خود فریب کے سوا کچھ نہیں۔ اور یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے، جو بطور پاکستانی، بطور محب وطن، میرے دل میں مسلسل گونجتا ہے۔
راقم کا ایک سوال: اس مختصر وقفے کی جنگ میں نواز شریف کا کوئی ایک بیان نہیں ملتا جو انڈیا کے خلاف دیا گیا ہو۔ حیرت ہوتی ہے کہ اتنی بڑی جارحیت، اتنی کھلی دھمکیوں کے دوران بھی ان کی زبان پر ایک لفظ نہیں آیا۔ ہاں، اگر وہ اس وقت بہت مصروف ہوں، شاید جنگ کا پلان بنا رہے ہوں، تو پھر یہ خاموشی سمجھ میں آتی ہے! ہمیں اب فیصلہ کرنا ہے کہ ہم بطور قوم کہاں کھڑے ہیں۔ کیا ہم دشمن کے پروپیگنڈے کا شکار بنیں گے یا اپنے نظریے پر قائم رہیں گے؟ پاکستان کو آج سیاسی انتشار سے زیادہ خطرہ کسی بیرونی دشمن سے نہیں۔ ہم نے اپنی توانائیاں ایک دوسرے کے خلاف صرف کر رکھی ہیں۔ سیاست دان اقتدار کے لیے ایک دوسرے کو غدار، چور، ڈاکو اور لٹیرا کہتے ہیں۔ عوام میں نفرت اور تقسیم بڑھ رہی ہے۔ دشمن یہی چاہتا ہے کہ پاکستانی ایک دوسرے سے لڑتے رہیں تاکہ اسے فائدہ ہو۔ یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ آزادی کسی دشمن کے سامنے جھک جانے کا نام نہیں۔ آزادی قربانی، عزم اور غیرت کا تقاضا کرتی ہے۔ مذاکرات اْس وقت ہی معنی رکھتے ہیں جب دونوں فریق برابری کی بنیاد پر بیٹھیں۔ بھارت نے ہمیشہ مذاکرات کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، مگر پاکستان نے ہر بار وقار کے ساتھ جواب دیا۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔ ہمیں اختلاف رائے کے باوجود ایک بات پر متحد ہونا ہوگا۔ پاکستان سب سے مقدم ہے۔ ذاتی مفادات، جماعتی سیاست اور اقتدار کی ہوس کو قومی سلامتی پر ترجیح دینا بدترین غداری کے مترادف ہے۔
مودی بدلے کی آگ میں جل رہا ہے، کیونکہ اْس نے پاکستان کو کمزور سمجھا اور ہر بار شکست کھائی۔ اْس کی فوج نفسیاتی دباؤ کا شکار ہے۔ اْس کا میڈیا پاکستان کے خوف میں زندہ ہے۔ اور اْس کے سیاسی مخالفین جانتے ہیں کہ مودی کا سیاسی مستقبل صرف پاکستان دشمنی پر کھڑا ہے۔ مگر پاکستان اب وہ ملک نہیں رہا جو دباؤ میں آئے۔ ہمیں اپنی خودی، اپنے ایمان اور اپنے نظریے کو پہچاننا ہوگا۔ دشمن ہماری صفوں میں انتشار دیکھ کر خوش ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم متحد رہیں، اور اپنی ریاست کی خودمختاری کا ہر سطح پر دفاع کریں۔ مودی اور اْس کے حواری ہمیشہ پاکستان کے خلاف نفرت کا بیانیہ بناتے رہیں گے، لیکن ہمیں اپنے کردار اور عمل سے دنیا کو دکھانا ہے کہ پاکستان امن چاہتا ہے مگر کمزوری نہیں دکھائے گا۔ پاکستان کے دشمنوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ملک کسی مصلحت پر نہیں بلکہ ایک نظریے پر قائم ہوا تھا، اور نظریے کو گولیوں، دھمکیوں یا پروپیگنڈے سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان ان شاء اللہ قائم رہے گا، اور مودی جیسے لوگ اپنے ہی نفرت کے شعلوں میں جلتے رہیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان کو پاکستان کے نہیں بلکہ بھارت کے بھارت نے کہ بھارت جواب دیا کوشش کی کے خلاف کے ساتھ ہوتا ہے کے لیے ہیں کہ
پڑھیں:
افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی
افغانستان کرکٹ ٹیم(Afghanistan Cricket Team) اپنی آئندہ ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی بھارت کے دارالحکومت دہلی میں کرے گی، جس کا باضابطہ شیڈول سامنے آگیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے درمیان طویل مشاورت کے بعد اس سیریز کے انعقاد پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کے تحت تین ٹی ٹوئنٹی میچز 13، 16 اور 19 ستمبر کو کھیلے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ افغانستان بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گا، جو دونوں کرکٹ بورڈز کے درمیان مضبوط ہوتے ہوئے تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔
اس سے قبل افغانستان کی ٹیم بھارت کے خلاف ایک ٹیسٹ میچ اور تین ون ڈے میچز کی سیریز بھی کھیل رہی ہے، جس سے دونوں ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی کرکٹ روابط مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
مزیدپڑھیں:پنجاب میں مفت سفری سہولت ختم کرنے پر غور
بھارتی میڈیا کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز کے لیے جوابی دورے کی خواہش ظاہر کی تھی، جس پر بھارتی بورڈ نے مثبت ردعمل دیا۔ دونوں بورڈز کے درمیان پہلے سے اچھے تعلقات موجود ہیں، جس کی بنیاد پر اس سیریز کو ممکن بنایا گیا۔
یہ بھی یاد رہے کہ افغانستان کرکٹ ٹیم ماضی میں اپنی ہوم سیریز بھارت اور متحدہ عرب امارات میں کھیلتی رہی ہے۔ بھارت میں افغانستان نے اس سے قبل آئرلینڈ، بنگلہ دیش اور نیوزی لینڈ جیسی ٹیموں کی میزبانی بھی کی ہے۔
کرکٹ ماہرین کے مطابق افغانستان کی جانب سے بھارت میں مسلسل ہوم سیریز کھیلنا اس بات کی علامت ہے کہ وہ عالمی کرکٹ میں اپنی موجودگی اور انتظامی صلاحیتوں کو مزید مضبوط کر رہا ہے۔