جنگ حل ہوتی تو اسرائیل مذاکرات کبھی نہ کرتا
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایک زبردست سوال اٹھایا گیا ہے اور اٹھانے والے بھی زبردست ہیں، اس سوال نے دنیا کی تاریخ کی کئی گتھیاں ایک جملے میں سلجھادیں اور وہ جملہ ہے ’’ہر مسئلے کا حل بات چیت نہیں، مذاکرات ہی حل ہوتے تو پھر جنگیں کبھی نہیں ہوتیں‘‘ یہ سن کر امریکا، اسرائیل اور دنیا کے تمام ممالک کی قیادت بے وقوف نظر آنے لگی، اقوام متحدہ کا وجود خطرے میں پڑگیا ہے، تازہ ترین بے وقوفی تو امریکا اور اسرائیل نے ابھی چند روز قبل کی ہے، یعنی دوسال تک ’’دنیا کی ناقابل شکست‘‘ فوج عملاً مٹھی بھر بے وسیلہ فلسطینیوں سے اپنا سر پھوڑنے کے بعد مذاکرات پر مجبور ہوئی، ان بے وقوفوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ ہر مسئلے کا حل بات چیت نہیں، مذاکرات ہی حل ہوتے تو جنگ ہرگز نہیں ہوتی، لیکن امریکا کو کون سمجھائے جس نے ویتنام میں برسوں جنگ کرنے کا تجربہ کیا، عراق اور مشرق وسطیٰ میں طویل جنگ لڑی، اور افغانستان میں بیس سال جنگ لڑ کر دوحا میں طالبان سے مذاکرات کیے اور اپنے فوجیوں کی جان بچا کر نکلا، اسرائیلی وزیر اعظم دوسال تک ایک ہی اعلان کرتا رہا کہ تمام مغوی رہا کرائوں گا، حماس کو ختم کردوں گا، غزہ کو خالی کرائوں گا، لیکن دوسال تک کھربوں ڈالر کا بارود پھونک کر 80 ہزار لوگوں کو شہید کرنے اور اپنے فوجی مرواکر، ناقابل شکست ہونے کا بھرم کھونے کے بعد مذاکرات کرلیے، اس سے قبل بھی بے وقوف اسرائیلی قطر میں مذاکرات اور بات چیت ہی کرتے رہے تھے، کاش کوئی ارسطو، افلاطون اور عقلمند ان کو بتاتا کہ ’’ہر مسئلے کا حل بات چیت نہیں، مذاکرات ہی حل ہوتے تو پھر جنگیں کبھی نہیں ہوتیں‘‘۔
پاک فوج کے ترجمان کی جانب سے قوم کو بتایا گیا ہے کہ ملک میں دہشت گردی میں اضافے کی مختلف وجوہات ہیں جس میں نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر عمل نہ ہونا بھی شامل ہے۔ اور نیشنل ایکشن پلان کا ایک نکتہ یہ بھی تھا کہ اس حوالے سے ایک بیانیہ بنایا جائے گا لیکن یہ بھی نہیں کیا گیا بلکہ دہشت گردوں سے مذاکرات کی بات کی گئی۔ بات تو بالکل ٹھیک ہے لیکن پاکستان میں حکومت، سیکورٹی، بجٹ، سیاست، خارجہ داخلہ پالیسی، بین الاقوامی تعلقات، معاہدے کرنا توڑنا، کسی کو محب وطن، کسی کو غدار قرار دینا، ان سب کے بیانیے بنانا، یہ سب کس کے ہاتھ میں ہے۔ 2014 میں آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے حملے کے بعد سیاسی و عسکری لیڈر شپ نے ایک مشترکہ نیشنل ایکشن پلان مرتب کیا لیکن آج تک اس پر پوری طرح عمل نہیں کیا گیا۔ کس کو نہیں معلوم کہ یہ نیشنل ایکشن پلان کس نے مرتب کروایا، تمام سیاسی دھڑوں کو ایک جگہ کس نے بٹھایا، اور سب کو متفق کردیا۔ وہی لوگ اعتراض کررہے ہیں کہ مذاکرات کرنے کی بات کی جاتی ہے اور کہہ رہے ہیں کہ کیا ہر مسئلے کا حل بات چیت میں ہے، اگر دہشت گردوں سے مذاکرات کرنے ہیں تو پھر جنگیں کبھی نہیں ہوتیں۔ معمول کے مطابق اسلامی ٹچ بھی ڈال دیا گیا اور کہا گیا کہ غزوۂ بدر میں سرور کونینؐ کبھی جنگ نہ کرتے۔ اللہ کے بندے اپنی بات ثابت کرنے کے لیے غزوۂ بدر کو بھی گھسیٹ لیا۔ یہ غزوۂ بدر اپنے ملک کے حکومت مخالفوں کے خلاف نہیں تھا، مسلمانوں پر حملہ آور کفار مکہ کے خلاف مدافعتی جنگ تھی، اسے یوم الفرقان کہا جاتا ہے، اس کا آج کے آپریشنوں سے کیا تعلق۔ البتہ سیاست میں حصہ نہ لینے کا حلف اٹھانے والوں نے بہت ساری باتیں سیاست اور ایک سیاسی جماعت کو سامنے رکھ کر کی ہیں کہ دہشت گردی کے پیچھے گٹھ جوڑ کو مقامی اور سیاسی پشت پناہی حاصل ہے، سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو جگہ دی گئی۔
ایک رپورٹ کے حوالے سے کہا گیا کہ امریکا 7.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہر مسئلے کا حل بات چیت نیشنل ایکشن پلان بھی نہیں کبھی نہ گیا کہ تو پھر
پڑھیں:
فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
فوٹو: آئی ایس پی آرفیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء کی جی ایچ کیو آمد کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں پراکسی عناصر بلوچستان میں تشدد کو ہوا دینے، استحکام کو نقصان پہنچانے اور امن خراب کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، تاہم ان کے ناپاک عزائم کو مسلح افواج کے مضبوط اور فیصلہ کن جواب اور عوام کے اتحاد سے ناکام بنادیا جائے گا۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کہنا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا فخر ہے، یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، بلوچستان کے متحرک، باہمت، ثابت قدم اور محبِ وطن عوام اس کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں بلوچستان میں دیرپا امن لائیں گی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف ٹارگیٹڈ آپریشنز جاری رہیں گے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے ملک کے مستقبل کی سمت کے تعین کے لیے قومی اتحاد اور ثابت قدمی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج عوام کے اتحاد، عزم اور ثابت قدمی کی بدولت ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔