Jasarat News:
2026-07-24@01:28:27 GMT

جنگ حل ہوتی تو اسرائیل مذاکرات کبھی نہ کرتا

اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT

جنگ حل ہوتی تو اسرائیل مذاکرات کبھی نہ کرتا

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ایک زبردست سوال اٹھایا گیا ہے اور اٹھانے والے بھی زبردست ہیں، اس سوال نے دنیا کی تاریخ کی کئی گتھیاں ایک جملے میں سلجھادیں اور وہ جملہ ہے ’’ہر مسئلے کا حل بات چیت نہیں، مذاکرات ہی حل ہوتے تو پھر جنگیں کبھی نہیں ہوتیں‘‘ یہ سن کر امریکا، اسرائیل اور دنیا کے تمام ممالک کی قیادت بے وقوف نظر آنے لگی، اقوام متحدہ کا وجود خطرے میں پڑگیا ہے، تازہ ترین بے وقوفی تو امریکا اور اسرائیل نے ابھی چند روز قبل کی ہے، یعنی دوسال تک ’’دنیا کی ناقابل شکست‘‘ فوج عملاً مٹھی بھر بے وسیلہ فلسطینیوں سے اپنا سر پھوڑنے کے بعد مذاکرات پر مجبور ہوئی، ان بے وقوفوں کو معلوم ہی نہیں تھا کہ ہر مسئلے کا حل بات چیت نہیں، مذاکرات ہی حل ہوتے تو جنگ ہرگز نہیں ہوتی، لیکن امریکا کو کون سمجھائے جس نے ویتنام میں برسوں جنگ کرنے کا تجربہ کیا، عراق اور مشرق وسطیٰ میں طویل جنگ لڑی، اور افغانستان میں بیس سال جنگ لڑ کر دوحا میں طالبان سے مذاکرات کیے اور اپنے فوجیوں کی جان بچا کر نکلا، اسرائیلی وزیر اعظم دوسال تک ایک ہی اعلان کرتا رہا کہ تمام مغوی رہا کرائوں گا، حماس کو ختم کردوں گا، غزہ کو خالی کرائوں گا، لیکن دوسال تک کھربوں ڈالر کا بارود پھونک کر 80 ہزار لوگوں کو شہید کرنے اور اپنے فوجی مرواکر، ناقابل شکست ہونے کا بھرم کھونے کے بعد مذاکرات کرلیے، اس سے قبل بھی بے وقوف اسرائیلی قطر میں مذاکرات اور بات چیت ہی کرتے رہے تھے، کاش کوئی ارسطو، افلاطون اور عقلمند ان کو بتاتا کہ ’’ہر مسئلے کا حل بات چیت نہیں، مذاکرات ہی حل ہوتے تو پھر جنگیں کبھی نہیں ہوتیں‘‘۔

پاک فوج کے ترجمان کی جانب سے قوم کو بتایا گیا ہے کہ ملک میں دہشت گردی میں اضافے کی مختلف وجوہات ہیں جس میں نیشنل ایکشن پلان کے تمام نکات پر عمل نہ ہونا بھی شامل ہے۔ اور نیشنل ایکشن پلان کا ایک نکتہ یہ بھی تھا کہ اس حوالے سے ایک بیانیہ بنایا جائے گا لیکن یہ بھی نہیں کیا گیا بلکہ دہشت گردوں سے مذاکرات کی بات کی گئی۔ بات تو بالکل ٹھیک ہے لیکن پاکستان میں حکومت، سیکورٹی، بجٹ، سیاست، خارجہ داخلہ پالیسی، بین الاقوامی تعلقات، معاہدے کرنا توڑنا، کسی کو محب وطن، کسی کو غدار قرار دینا، ان سب کے بیانیے بنانا، یہ سب کس کے ہاتھ میں ہے۔ 2014 میں آرمی پبلک اسکول پر ہونے والے حملے کے بعد سیاسی و عسکری لیڈر شپ نے ایک مشترکہ نیشنل ایکشن پلان مرتب کیا لیکن آج تک اس پر پوری طرح عمل نہیں کیا گیا۔ کس کو نہیں معلوم کہ یہ نیشنل ایکشن پلان کس نے مرتب کروایا، تمام سیاسی دھڑوں کو ایک جگہ کس نے بٹھایا، اور سب کو متفق کردیا۔ وہی لوگ اعتراض کررہے ہیں کہ مذاکرات کرنے کی بات کی جاتی ہے اور کہہ رہے ہیں کہ کیا ہر مسئلے کا حل بات چیت میں ہے، اگر دہشت گردوں سے مذاکرات کرنے ہیں تو پھر جنگیں کبھی نہیں ہوتیں۔ معمول کے مطابق اسلامی ٹچ بھی ڈال دیا گیا اور کہا گیا کہ غزوۂ بدر میں سرور کونینؐ کبھی جنگ نہ کرتے۔ اللہ کے بندے اپنی بات ثابت کرنے کے لیے غزوۂ بدر کو بھی گھسیٹ لیا۔ یہ غزوۂ بدر اپنے ملک کے حکومت مخالفوں کے خلاف نہیں تھا، مسلمانوں پر حملہ آور کفار مکہ کے خلاف مدافعتی جنگ تھی، اسے یوم الفرقان کہا جاتا ہے، اس کا آج کے آپریشنوں سے کیا تعلق۔ البتہ سیاست میں حصہ نہ لینے کا حلف اٹھانے والوں نے بہت ساری باتیں سیاست اور ایک سیاسی جماعت کو سامنے رکھ کر کی ہیں کہ دہشت گردی کے پیچھے گٹھ جوڑ کو مقامی اور سیاسی پشت پناہی حاصل ہے، سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو جگہ دی گئی۔

ایک رپورٹ کے حوالے سے کہا گیا کہ امریکا 7.

2 ارب ڈالر کا ہتھیار افغانستان میں چھوڑ کر گیا جو دہشت گردوں کے ہاتھ لگا اور یہی اسلحہ پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہا ہے۔ یہ زبردست بات ہے، لگے ہاتھوں یہ بھی بتادیتے کہ امریکا یہ اسلحہ کون سی سڑکوں پر چھوڑگیا تھا جو دہشت گردوں کے ہاتھ لگ گیا، ایسا لگ رہا ہے کہ امریکی اسلحہ غیر محفوظ تھا اس وقت تو حالت یہ تھی امریکیوں کی جان پر بنی ہوئی تھی تو دہشت گردوں کی مجال کیا ہوگی کہ اسلحہ اٹھا کر لے جائیں، ہاں یہ اطلاعات ضرور تھیں کہ امریکیوں نے وارلارڈز اور مختلف طالبان مخالف گروپوں میں اسلحہ تقسیم کیا تھا تاکہ مستقبل میں دہشت گردی میں استعمال کیا جاسکے، یہی کام وہ ویتنام سے فرار ہوتے ہوئے کرکے گئے تھے اور یہی عراق سے نکلتے ہوئے کیا اور افغانستان میں بھی۔ اس میں مذاکرات کے حامیوں کو دوش دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے جنگ لڑنے کی دلیل اور حوالہ دیا گیا کہ 2024 میں خفیہ اطلاعات پر کے پی میں 14ہزار 535 آپریشنز کیے گئے اور 2025 میں اب تک 10 ہزار 115 کارروائیاں کی گئیں، رواں سال مارے جانے والے دہشت گردوں کی تعداد گزشتہ 10 سال میں سب سے زیادہ ہے۔ یہ سارے اعدادو شمار بتانے کے بعد کہا گیا کہ اس ملک میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے لیے زمین تنگ کر دی جائے گی، جو ان کی سہولت کاری کرے گا وہ انجام کو پہنچے گا لہٰذا عوام ساتھ دیں۔ سوال یہ ہے کہ اب تک اتنے آپریشنوں کے بعد دہشت گردوں پر زمین تنگ کیوں نہیں ہوگئی، دعوے تو کمر توڑنے کے کئی مرتبہ ہوچکے، ہر مرتبہ ٹوٹی کمر والے دہشت گرد واردات کرجاتے ہیں۔ ترجمان نے یہاں پہنچ کر کہا کہ بنیادی طور پر پولیس کا کرنے والا کام بھی فوج کو کرنا پڑ رہا ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ سی ٹی ڈی کی تعداد ہی 3200 رکھی ہوئی ہے تو پھر نتائج کیسے برآمد ہوں گے۔ خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کا سبب سیاسی اور مجرمانہ گٹھ جوڑ ہے، اس سیاسی مافیا کے لیے ہزاروں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں اہم ہیں اور اگر اسمگلنگ ہوتی رہے گی تو اس کے ساتھ دہشت گردی اور دھماکا خیز مواد بھی آئے گا، یہاں ہونے والی اسمگلنگ کا الزام بھی فوج پر لگا دیا جاتا ہے اب سوال یہ ہے کہ فوج کے ذمے داروں نے کبھی سوچا کہ فوج سارے کام کیوں اپنے سر لے رہی ہے اور سارے کام وہی کرتے ہیں تو اسمگلنگ کا الزام بھی ان ہی پر لگے گا۔

مظفر اعجاز

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: ہر مسئلے کا حل بات چیت نیشنل ایکشن پلان بھی نہیں کبھی نہ گیا کہ تو پھر

پڑھیں:

فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار

فوٹو: آئی ایس پی آر 

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار  کیا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء کی جی ایچ کیو آمد کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے فیلڈ مارشل نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں پراکسی عناصر بلوچستان میں تشدد کو ہوا دینے، استحکام کو نقصان پہنچانے اور امن خراب کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، تاہم ان کے ناپاک عزائم کو مسلح افواج کے مضبوط اور فیصلہ کن جواب اور عوام کے اتحاد سے ناکام بنادیا جائے گا۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کہنا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا فخر ہے، یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، بلوچستان کے متحرک، باہمت، ثابت قدم اور محبِ وطن عوام اس کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں بلوچستان میں دیرپا امن لائیں گی، فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف ٹارگیٹڈ آپریشنز جاری رہیں گے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے ملک کے مستقبل کی سمت کے تعین کے لیے قومی اتحاد اور ثابت قدمی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج عوام کے اتحاد، عزم اور ثابت قدمی کی بدولت ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سیکیورٹی فورسز کی مستونگ میں کارروائی کے دوران فتنہ الہندوستان کے 6 دہشت گرد ہلاک
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار