فلسطین پر حکمرانی کا حق صرف فلسطینیوں کو حاصل ہے؛ چین
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
چین نے غزہ امن منصوبے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اپنے واضح مؤقف کو ایک بار پھر دہرایا ہے کہ فلسطین میں حکمرانی کا حق صرف اور صرف وہاں کے عوام کو حاصل ہونا چاہیے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق، چینی وزیرِ خارجہ وانگ ژی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ عالمی برادری بھی اسی اصول کی حمایت کرتی ہے کہ فلسطین پر فلسطینیوں کی ہی حکومت ہونی چاہیے۔
وانگ ژی نے مزید کہا کہ غزہ کے مستقبل سے متعلق کوئی بھی فیصلہ فلسطینی عوام کی مرضی کے بغیر اور ان کی خواہش کے برعکس نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کی بحالی اور انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کا چین خیر مقدم کرتا ہے۔
چینی وزیرِ خارجہ نے غزہ میں جاری انسانی بحران کو “اکیسویں صدی کا ایک بدنما داغ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ انسانی ضمیر جاگ جائے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ یہ اصول یقینی بنایا جائے کہ غزہ میں حکمرانی کا حق صرف غزہ کے عوام کے پاس رہے۔
واضح رہے کہ آج مصر میں قطر کے امیر، امریکی اور مصری صدور نے غزہ امن منصوبے پر باضابطہ دستخط کیے، جس کے بعد اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی اور فلسطینی قیدیوں کے تبادلے کا عمل بھی مکمل ہوگیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ وقت کا تقاضا ہے کہ عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کے بحران سے نجات دلانے کے لیے فوری، سنجیدہ اور مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو اور ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہو سکے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ گیس، بجلی اور پانی کی مسلسل قلت، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور حکومتی معاشی پالیسیاں عوام کے لیے شدید پریشانی کا باعث بن چکی ہیں، حکمران طبقہ تاجروں، کسانوں، مزدوروں اور عام شہریوں کو معاشی ریلیف اور سہولیات فرام کرنے میں بے بس ہے۔ ان کیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اہلسنت سے جاری ایک بیان میں کیا۔ محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بار بار ہونے والے اضافے نے نہ صرف شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے بلکہ معیشت کو بھی عدم استحکام سے دوچار کر دیا ہے، بازاروں میں سناٹے تاجر بھی پریشان حال ہیں، حکمرانوں کے پاس تاحال ایسی عوام دوست معاشی پالیسی دکھائی نہیں دے رہی جو مہنگائی پر قابو پا سکے اور عام آدمی کو حقیقی سہولت فراہم کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیئے کہ دعووں اور اعلانات کے بجائے عملی اقدامات کرے، عوام کی بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنائے اور معاشی استحکام کے لیے بڑے، مؤثر اور دیرپا فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت اور آئین کا بنیادی مقصد عوام کو باعزت، محفوظ اور خوشحال زندگی فراہم کرنا ہے، حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہریوں کو معیاری تعلیم، بہترین طبی سہولیات، روزگار کے مواقع، معاشی استحکام اور بنیادی ضروریات کی فراہمی یقینی بنائے، عوام کو مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سے نجات دلانے کے لیے مؤثر اور عوام دوست پالیسیاں اختیار کی جائیں، حقیقی جمہوریت اسی وقت مضبوط ہوتی ہے جب آئین کی بالادستی، قانون کی مساوی حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کو اولین ترجیح دی جائے۔