مشرق وسطی میں پائیدار امن کا کریڈٹ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جاتا ہے؛ محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
سٹی 42 : وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی سے امریکہ کی قائم مقام سفیر نیٹلی بیکر کی ملاقات ہوئی، جس کے دوران پاک امریکہ تعلقات اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے غزہ امن معاہدے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مخلصانہ کاوشوں کو سراہا، کہا کہ مشرق وسطی میں پائیدار امن کا کریڈٹ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جاتا ہے۔
قائم مقام امریکی سفیر نیٹلی بیکر نے دہشتگردی کے حالیہ واقعات میں جانی نقصان پر اظہارِ افسوس کیا۔ محسن نقوی نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان نے دنیا کو دہشت گردی سے محفوظ رکھنے کی جنگ کی بھاری قیمت ادا کی ہے اور کر رہا ہے ۔ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن سٹیٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز، پولیس اور ہر طبقے نے اس جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔
مکہ مکرمہ میں تاریخی ’’کنگ سلمان گیٹ‘‘ منصوبے کا اعلان
نیٹلی بیکرنے کہا کہ دہشتگردی کے جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کی قدر کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھیں گے۔
محسن نقوی نے کہا کہ امریکی سرمایہ کارکمپنیوں کے پاکستان میں معدنیات اور دیگر شعبوں میں سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرتے ہیں۔
وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری، سیکرٹری داخلہ محمد خرم آغا، چیف کمشنر اسلام آباد، آئی جی اسلام آباد پولیس اور ڈی سی اسلام آباد بھی اس موقع پر موجود تھے ۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا ''فتنہ الخوارج''کے خلاف کامیاب آپریشن پر پاک فوج کو خراج تحسین
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: محسن نقوی نے کہا کہ
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔