برآمدی معیشت ناقابلِ تلافی نقصان سے دوچار
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: پاکستان عالمی مارکیٹ میں مسابقت کھو رہا ہے، برآمدی معیشت ناقابلِ تلافی نقصان سے دوچار ہونے کے دہانے پر، کارخانے دباو ¿ میں، آرڈرز دوسرے ممالک منتقل ہونے کا انکشاف۔
چیئرمین پی ٹی سی نے فواد انور کہا ہے کہ ستمبر میں برآمدات 11 فیصد گر گئیں، جب کہ پاکستان کی برآمدات پہلی ششماہی میں 3.
4 فیصد کمی ہوئی ہے۔
چیئرمین پی ٹی سی نے کہا کہ ٹیکسٹائل برآمدات میں 2 فیصد کمی ہوئی، کاٹن برآمدات میں 7.8 فیصد کمی، نِٹ فیبرکس 29.5 فیصد گر گئیں، پاکستان عالمی مارکیٹ میں مسابقت کھو رہا ہے۔
چیئرمین پی ٹی سی نے کہا کہ حکومت نے اقدام نہ کئے تو برآمدی معیشت ناقابلِ تلافی نقصان سے دوچار ہو گی، کارخانے دباو ¿ میں، آرڈرز دوسرے ممالک منتقل ہو رہے ہیں، درستگی کے اقدامات نہ ہوئے تو پاکستان کا برآمدی بنیاد خطرے میں پڑجائے گا۔
دوسری جانب مشیر خزانہ خیبر پختونخوا مزمل اسلم نے پاکستان کے درآمدات و برآمدات بارے اپنے ردعمل میں کہا کہ پاکستان کی تجارت الٹے قدم چل رہی ہے، برآمدات ستمبر میں 2.5 ارب ڈالر تک محدود جو سال پہلے سے 12 فیصد کم ہے۔ مشیر خزانہ خیبر پختونخوا نے کہا کہ دوسری طرف درآمدات میں 14 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے تجارتی خسارہ ایک ماہ میں 16 فیصد بڑھ کر 3.34 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔
ویب ڈیسک
Faiz alam babar
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔