Jasarat News:
2026-06-02@23:40:48 GMT

پاکستان سروسز لمیٹڈ نے 28 فیصد ووٹنگ شیئرز حاصل کر لیے

اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT

پاکستان سروسز لمیٹڈ نے 28 فیصد ووٹنگ شیئرز حاصل کر لیے

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی(کامرس رپورٹر)ٹھٹھہ سیمنٹ کمپنی لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کامران منیر انصاری نے کہا کہ کمپنی نے کامیابی کے ساتھ 5.5 ارب روپے مالیت کا ریٹڈ، سکیورڈ، لسٹڈ اور پرائیویٹلی پلیسڈ طویل مدتی اسلامی سکوک مکمل اور بند کر دیا ہیجبکہ یہ سرمایہ جاتی ڈھانچے کو مزید مضبوطی بناتا ہے اور مستقبل کی ترقی کے اقدامات کی حمایت کرتا ہے۔ یہ لین دین سرمایہ کاروں اور مالیاتی اداروں کے TCCL کی شفاف حکمرانی اور اسٹریٹجک وڑن پر اعتماد کو ظاہر کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کمپنی نے پاکستان سروسز لمیٹڈ (PSL) میں ایک اسٹریٹجک سرمایہ کاری بھی کی ہے۔ اس نے 13 اکتوبر 2025 کو پاکستان سروسز لمیٹڈ کے 9,107,800 ووٹنگ شیئرز 710 روپے فی شیئر کی شرح سے حاصل کیے گئے، جو کہ کمپنی کے کل جاری کردہ ووٹنگ شیئرز کا 28 فیصد حصہ بنتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹی سی سی ایل یہ سرمایہ کاری کمپنی کی متنوع کاروباری حکمتِ عملی اور طویل مدتی قدر میں اضافے کے وڑن کے عین مطابق ہے۔ یہ پاکستان کے مہمان نوازی کے شعبے پر ہمارے اعتماد اور اس کے ترقیاتی امکانات کی عکاسی کرتی ہے۔’’انہوں نے مزید بتایا کہ تھٹہ سیمنٹ کمپنی ایک ذمہ دار کارپوریٹ شہری کے طور پر 5.

5 ارب روپے انکم ٹیکس، ایکسائز ڈیوٹی، سیلز ٹیکس اور دیگر محصولات کی مد میں حکومت کو ادا کر چکی ہے، جو مالی شفافیت، قانون کی پاسداری اور قومی اقتصادی ترقی کے لیے کمپنی کے عزم کا ثبوت ہے۔انہوں نے بتایا کہ تھٹہ سیمنٹ کمپنی 1980 میں ایک پبلک لمیٹڈ کمپنی کے طور پر قائم کی گئی تھی اور یہ ضلع تھٹہ، مکلی میں غلام اللہ روڈ پر واقع اپنے پیداواری پلانٹ کے ذریعے کلنکر اور سیمنٹ کی تیاری و فروخت میں مصروف عمل ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کمپنی کی مجموعی فروخت 11.14 ارب روپے اور خالص فروخت 7.57 ارب روپے ہے جبکہ اس کا مجموعی منافع 2.15 ارب روپے رہا، جبکہ کمپنی کے حصص یافتگان کی فی حصص آمدنی 2.56 ارب روپے کے بعد ٹیکس کے بعد 30.18 روپے فی حصص رہی۔انہوں نے کہا کہ کمپنی نے چیلنجنگ معاشی حالات کے باوجود منافع میں استحکام، دیگر آمدنی میں اضافہ، اور فروخت میں استحکام برقرار رکھا ہے، جبکہ لاگت کی بچت اور آپریشنل کارکردگی پر مسلسل توجہ مرکوز رکھی ہے۔انہوں نے بتایا کہ کمپنی نے قابلِ تجدید توانائی کے کئی منصوبے بھی شروع کیے ہیں تاکہ صاف توانائی کے فروغ اور ماحولیاتی پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے۔ ‘‘پہلا منصوبہ 5 میگاواٹ سولر پاور پلانٹ ہے جو نیشنل گرڈ پر انحصار کم کرتا ہے، جبکہ اضافی بجلی تھٹہ اور بدین کے پسماندہ علاقوں میں فراہم کی جاتی ہے۔’’‘‘دوسرا منصوبہ 4.8 میگاواٹ ونڈ پاور پلانٹ ہے جو 3 اپریل 2025 کو کمیشن ہوا۔ یہ منصوبہ مقامی کسانوں کو اضافی بجلی کی فراہمی کے ذریعے زرعی پیداوار میں اضافہ کرے گا۔’’‘‘تیسرا منصوبہ ویسٹ ہیٹ ریکوری پلانٹ (WHRP) ہے جو سیمنٹ اور پاور پلانٹس سے ضائع ہونے والی حرارت کو بجلی میں تبدیل کرتا ہے، توانائی کی کارکردگی میں اضافہ کرتا ہے اور کاربن فٹ پرنٹ میں کمی لاتا ہے تاکہ ماحول کے تحفظ کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔’’انہوں نے مزید کہا کہ کمپنی اپنے سماجی ذمہ داری (CSR) کے تحت ملازمین اور مقامی برادریوں کی فلاح و بہبود پر خصوصی توجہ دیتی ہے، جن میں صحت و حفاظت کی تربیت، سلیکوسِس تشخیصی و طبی اسکریننگ سینٹر کا قیام، سالانہ درخت لگانے کی مہم (ہر سال 10,000 درخت)، ملازمین کی فلاحی اسکیمیں (رہائش، تعلیم، طبی سہولیات، اور سبسڈائزڈ کھانے)، اور مقامی آبادی کے لیے مفت میڈیکل کیمپ شامل ہیں۔

کامرس رپورٹر گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے مزید کہا کہ کمپنی کہ کمپنی نے ہے انہوں نے ارب روپے کمپنی کے کرتا ہے

پڑھیں:

فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان

پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘  کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔

فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔

گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔

رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم