ارشد ندیم کے کوچ پر تاحیات پابندی، حکومت نے اعلیٰ سطحی انکوائری کا حکم دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
حکومتِ پاکستان نے ایتھلیٹکس فیڈریشن آف پاکستان (اے ایف پی) کی جانب سے معروف کوچ سلمان بٹ پر تاحیات پابندی کے متنازع اور شدید تنقید کا نشانہ بننے والے فیصلے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:کھیل سے جنگ تک: ارشد ندیم اور نیرج چوپڑا کی رقابت کا نیا باب
سلمان بٹ وہ کوچ ہیں جنہوں نے پاکستان کے اولمپک ہیرو ارشد ندیم کو عالمی سطح پر کامیابی دلانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔
ان پر پابندی کے فیصلے کے بعد ملک بھر میں کھیلوں کے حلقوں اور عوام نے سخت ردِعمل ظاہر کیا، جس کے بعد حکومت نے معاملے کی شفاف تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کمیٹی ایتھلیٹکس فیڈریشن کے فیصلے کی وجوہات اور طریقہ کار کا تفصیلی جائزہ لے گی اور اپنی رپورٹ جلد وزیرِ اعظم کو پیش کرے گی۔
اسپورٹس ماہرین نے حکومت کے اقدام کو درست سمت میں قدم قرار دیا ہے اور توقع ظاہر کی ہے کہ انصاف پر مبنی فیصلہ سامنے آئے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ارشد ندیم ارشد ندیم کوچ تاحیات پابندی معروف کوچ سلمان بٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ارشد ندیم کوچ تاحیات پابندی معروف کوچ سلمان بٹ
پڑھیں:
کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
سپریم کورٹ آف پاکستان نے 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم سنی مسیح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ سنا دیا۔
عدالت عظمیٰ نے اپنے اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے نشہ کرکے جرم کا ارتکاب کرنے والا شخص اپنے مجرمانہ عمل سے استثنیٰ کا دعویٰ کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
3 رکنی بینچ، جس میں جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے، نے مجرم کی اپیل پر فیصلہ جاری کیا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ صرف اس صورت میں کیا جا سکتا ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا اس کے علم میں لائے بغیر نشہ آور چیز دی گئی ہو۔
عدالتی فیصلے کے مطابق مجرم سنی مسیح کے خلاف 5 سالہ کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے اور قتل کرنے کا مقدمہ 22 جنوری 2014 کو سبی میں درج کیا گیا تھا۔
ٹرائل کورٹ نے جرم ثابت ہونے پر مجرم کو سزائے موت سنائی تھی، جسے بعد ازاں ہائیکورٹ نے بھی برقرار رکھا اور اب سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کی توثیق کردی ہے۔
دوران سماعت مجرم کے وکیل نے مؤقف اختیار کیاکہ وقوعہ کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، اس لیے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
تاہم سپریم کورٹ نے اس استدعا کو مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ کسی شخص کو ایسے عمل کی سزا نہیں دی جا سکتی جس کے ارتکاب کا اس کا ارادہ نہ ہو، لیکن رضاکارانہ طور پر نشہ کرکے اسے اپنے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیاکہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
عدالت نے واضح کیاکہ جو شخص اپنی مرضی سے شراب نوشی کرتا ہے وہ بعد میں مجرمانہ ذمہ داری سے استثنیٰ کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ مجرم نے بے دردی کے ساتھ کمسن بچی کو قتل کیا، لہٰذا اس کی اپیل خارج کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews سزائے موت برقرار قتل کیس کمسن بچی وی نیوز