پنجاب حکومت کے بڑے فیصلے ،مذہبی جماعت کیخلاف قانونی کارروائی شروع،پابندی کی سفارش
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور/ اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پنجاب حکومت نے ریاستی رِٹ اور قانون کی بالادستی قائم کرنے کے لیے غیر معمولی اور تاریخی فیصلے کر لیے۔ تحریک لبیک کے خلاف سخت قانونی کارروائی شروع کردی گئی ، تنظیم پر پابندی کی سفارش، تحریک لبیک کے خلاف کریک ڈاؤن کے دوران3400 کارکنان کو گرفتار کرلیا گیا،صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ‘ احتجاج‘ جلسے‘ دھرنوں پر پابندی عاید کردی گئی جبکہ اسلام آباد میں بھی ٹی ایل پی کے دفاتر،مساجد اور مدارس سیل کردیے گئے،وفاقی وزرا کا کہنا ہے کہ ٹی ایل پی سے آخری منٹ تک مذاکرات ہوئے مگر وہ نہیں مانے، دہشت گردوں کو رہا کرنے کی شرط رکھی گئی ،انہوں نے کہا کہ آج علما ہمارے ساتھ فلسطین جنگ بندی پر اظہار تشکرمنائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت امن و امان پر غیر معمولی اجلاس ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب حکومت وفاقی حکومت کو انتہا پسند جماعت پر پابندی عاید کرنے کی سفارش کرے گی۔پنجاب میں نفرت انگیزی، اشتعال انگیزی اور قانون شکنی میں ملوث افراد کو فوری گرفتار کیا جائے گا۔ پولیس افسران کی شہادت اور سرکاری املاک کی تباہی میں ملوث رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف دہشت گردی کی عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں گے۔ انتہا پسند جماعت کی قیادت کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے فورتھ شیڈول میں شامل کیا جائے گا، تمام جائیدادیں اور اثاثے محکمہ اوقاف کے حوالے کیے جائیں گے جبکہ پوسٹرز، بینرز اور اشتہارات پر مکمل پابندی ہوگی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نفرت پھیلانے والے انتہا پسند جماعت کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کیے جائیں گے اور تمام بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جائیں گے۔لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کی خلاف ورزی پر سخت ترین کارروائی ہوگی۔اس کے علاوہ پنجاب حکومت نے مذہبی جماعت کے احتجاج میں گرفتار ملزمان کے کیسز کی مؤثر پیروی کا فیصلہ کر لیا۔ پنجاب حکومت نے 2 سینئر وکلا کو اسپیشل پراسیکیوٹر تعینات کر دیا۔ ادھر پنجاب بھر میں 18 اکتوبر تک دفعہ 144 نافذ کر دی گئی، صوبے میں ہر قسم کے احتجاج، جلسے، جلوس، ریلیوں، دھرنوں پر پابندی ہو گی۔محکمہ داخلہ پنجاب نے دفعہ 144 کے نفاذ کا نوٹی فکیشن جاری کردیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مذہبی جماعت کے خلاف پنجاب بھر میں جاری کریک ڈاؤن میں گرفتاریوں کی تعداد 3400 تک جاپہنچی ہے، جبکہ لاہور سے گرفتار ملزمان کی تعداد 326 ہوگئی ہے۔ علاوہ ازیں اسلام آباد کی حدود میں بھی تحریک لبیک پاکستان کے دفاتر، مساجد اور مدارس سیل کر دیے گئے ہیں۔ وفاقی انتظامیہ کی جانب سے کارروائی کے دوران مرکزی دفتر ٹی ایل پی رولر ایریا مری روڈ اٹھال چوک سیل کر دیا گیا۔ مدینہ ٹاون سملی ڈیم روڈ بھارہ کہو میں واقع ٹی ایل پی آفس بھی سیل کر دیا گیا۔ مرکزی جامع مسجد و مدرسہ انوار مدینہ نئی آباد بھارہ کہو اور مرکزی جامع مسجد محلہ ٹیکری نئی آبادی بھارہ کہو سیل کر دی گئی۔ یوسی لیول دفتر ٹی ایل پی شاہ پور سملی ڈیم روڈ بھارہ کہو بھی سیل کیا گیا۔ مسجد ممتاز قادری، گاؤں اٹھال، سملی ڈیم روڈ بھار کہو اور جامع مسجد سترہ میل مری روڈ بھارہ کہو سیل کر دی گئی۔ یوسی 14 دفتر ٹی ایل پی، مسجد و مدرسہ ٹی ایل پی واقع سیری چوک پھلگراں سیل کر دی گئی۔مزید برآں وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) نے احتجاج کے دوران پرتشدد رویہ اپنایا اور اسلحہ تانا، جتھوں نے فائرنگ کی تاہم ٹی ایل پی کے عہدیداروں کے سوا کسی اور مدرسے یا علمائے کرام پر ایکشن کی نہ اجازت ہے اور نہ ہی اجازت دی جائے گی۔وزیرداخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ، وزیر مذہبی امور سردار یوسف اور وزیرمملکت داخلہ طلال چودھری کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کہا کہ جو لوگ کہتے ہیں مذاکرات نہیں ہوئے، مذاکرات ان کے نکلنے سے لے کر آخری منٹ تک ہوتے رہے، ٹی ایل پی کے اعلیٰ عہدیدار خود بتائیں گے کہ ڈھائی بجے تک سرکاری ٹیم کے ساتھ بیٹھے رہے اور ہر دفعہ ان کو یہی کہا گیا کہ آپ واپس چلے جائیں، کچھ نہیں کہا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر دفعہ ان کی شرائط ایک سے بڑھ کر تھی، ان سے پوچھیں کیا ان کا مقصد فلسطین تھا، ان کی شرائط کی فہرست دیکھیں تو اس میں شرط ہے فلاں قاتل اور دہشت گرد ہے، اس کو جیل سے رہا کردیا جائے تو کیا یہ ریلی فلسطین کے لیے تھی یا ان لوگوں کی رہائی کے لیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ لبیک یا رسول اللہ کا نعرہ ہم سب کا ہے، اس دن کسی پر بھی تشدد نہیں ہوا، صرف ان لوگوں پر ہوا جو پرتشدد تھے، جنہوں نے اسلحہ اٹھایا ہوا تھا، جنہوں نے سیدھی گولیاں ماری تو پولیس نے سڑک کلیئر کرائی اور وہ تمام فورسز شاباش کی مستحق ہیں جس نے اس آپریشن میں حصہ لیا۔ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات دو دن مسلسل ہوتے رہے، پاکستان کی ایک اعلیٰ دینی اور سیاسی شخصیت درمیان میں آئی لیکن ان کو بھی دھوکا دیا گیا اور باقی لوگوں کو بھی دھوکا دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پچھلے دو تین ماہ سے کیا ایسی چیز آگئی ہے کہ کہیں نہ کہیں سے ہر 15 روز بعد ایک بڑا احتجاج ہونا ضروری ہے، اس کے پیچھے کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی طریقے سے براہ راست نہیں تو کسی طرح کا لنک آج یا سال بعد ضرور نظر آئے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سوائے ٹی ایل پی کے عہدیداران کے کسی بھی مدرسہ یا علمائے کرام پر ایکشن کی نہ اجازت ہے اور نہ ہوگی، وہ سب ہماری طرح آج کو فلسطین پر اظہار تشکر منائیں اور احتجاج نہیں کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پنجاب حکومت ٹی ایل پی کے اسلام ا باد تحریک لبیک پر پابندی سیل کر دی جائیں گے کا کہنا کے خلاف کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔