چند ماہ قبل ٹی ایل پی نے مجھے ریپ اور قتل کی دھمکیاں دی تھیں، صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ شدت پسند تنظیم تحریک لبیک پاکستان(ٹی ایل پی) کے خلاف کارروائی کا فیصلہ صوبائی حکومت نے مکمل قانونی طریقے سے کیا ہے، کیونکہ اس گروہ کا ریکارڈ تشدد، قانون شکنی اور ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے سے بھرا ہوا ہے، چند ماہ قبل ٹی ایل پی نے مجھے ریپ اور قتل کی دھمکیاں دی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: ٹی ایل پی کے مطالبات میں فلسطین کا ذکر نہیں تھا، جتھوں سے بلیک میل نہیں ہوں گے، طلال چوہدری
وی نیوز کو خصوصی انٹرویو میں عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ٹی ایل پی کے خلاف پہلے کیا ہوا، اس کا جواب میں نہیں دے سکتی، میں صرف ابھی کا جواب دے سکتی ہوں۔
انہوں نے کہا کہ جب بھی یہ گروہ سڑکوں پر نکلتا ہے تو لاشیں گرتی ہیں، ریاست مفلوج ہوتی ہے اور عوامی املاک کو نقصان پہنچتا ہے، اسی لیے قانون کے تحت ایسے گروہوں پر پابندی عائد کی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کابینہ نے پابندی کی منظوری دے دی ہے اور سمری وزیر اعلیٰ پنجاب کے دستخط کے بعد وفاقی حکومت کو بھیجی جارہی ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اب ملک میں جتھوں کی سیاست نہیں ہوگی، رضوی برادران کو ابھی گرفتار نہیں کیا گیا تاہم ان کی گرفتاری کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ عظمیٰ بخاری کے مطابق انسانی جانوں کا معاملہ ہے، اس لیے احتیاط سے کارروائی کی جارہی ہے۔
’خاص گروپ کی مساجد محکمہ اوقاف کے حوالے کی گئی ہیں‘مساجد سے متعلق سوال پر وزیراطلاعات پنجاب نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ مساجد بند کردی گئی ہیں یا عبادت پر کوئی قدغن لگائی گئی ہے۔ صرف اس مخصوص گروہ کی زیرانتظام مساجد کو محکمہ اوقاف کے سپرد کیا گیا ہے۔ ان مساجد میں نماز، اذان اور عبادت معمول کے مطابق جاری رہے گی، البتہ لاؤڈ اسپیکر صرف اذان کے لیے استعمال ہوگا، نفرت انگیزی کے لیے نہیں۔
’ ہزاروں افراد کی جانب سے قتل اور زیادتی کی دھمکیاں دی گئیں‘دھمکیوں کے حوالے سے عظمیٰ بخاری نے انکشاف کیا کہ چند ماہ قبل انہیں ہزاروں افراد کی جانب سے قتل اور زیادتی کی دھمکیاں دی گئیں، ریپ سے لے کر قتل تک کی دھمکیاں دی گئی، واٹس ایپ اور دیگر ذرائع سے گالیاں اور فون کالز آئیں جس کے باعث ان کا فون کئی دن تک بند رہا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتیں اور نہ ہی شہرت کے لیے کوئی بیان دیتی ہیں۔
’ٹی ایل پی پر پابندی صرف وفاق اور پنجاب کا فیصلہ نہیں، یہ پوری قوم کا فیصلہ ہے‘مریم نواز کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ یہ صرف پنجاب حکومت یا مریم نواز کا مؤقف نہیں بلکہ ان تمام پاکستانیوں کا مؤقف ہے جو ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن دیکھنا چاہتے ہیں اور انتہا پسندی کی سیاست کو مسترد کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی فتنہ کی نئی کال دے رہی ہے، ملک ترقی کرے تو انہیں تکلیف ہوتی ہے: عظمیٰ بخاری
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ رضوی فیملی کی خواتین کو اس وقت حفاظتی تحویل میں لیا گیا تھا کیونکہ حالات قابو سے باہر تھے، تاہم چیف نصرت صاحبہ کے حکم پر انہیں گھر جانے کی اجازت دے دی گئی۔
’یہ فیصلہ صرف امن و امان کی بحالی اور قانون کی بالا دستی ہے‘انھوں نے کہا کہ حکومت کا اس فیصلے سے کوئی سیاسی مقصد وابستہ نہیں، مقصد صرف امن و امان کی بحالی اور قانون کی بالادستی ہے۔ جو لوگ قانون ہاتھ میں لیں گے، ان کے خلاف دہشت گردی کے مقدمات درج کیے جائیں گے، اگر کوئی صرف سیاست کو سیاست کی طرح کرے تو اس پر کسی کو اعتراض نہیں۔
غزہ سے متعلق سوال پر وزیراطلاعات نے واضح کیا کہ اس تنظیم کے کسی بھی مطالبے کا غزہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان کے تمام مطالبات اسلام آباد مارچ، مقدمات کے خاتمے اور اپنے کارکنوں کی رہائی سے متعلق تھے، جب غزہ میں امن ہورہا ہے تو یہ لوگ باہر نکل آئے تھے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اب ریاست نے فیصلہ کر لیا ہے کہ ملک میں افراتفری اور شدت پسندی کی سیاست مزید برداشت نہیں کی جائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پابندی پاکستان پنجاب ٹی ایل پی عظمیٰ بخاری غزہ مارچ وزیراطلاعات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پابندی پاکستان ٹی ایل پی وزیراطلاعات کی دھمکیاں دی ٹی ایل پی نے کہا کہ انہوں نے کے لیے
پڑھیں:
ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کے امکانات روشن ہیں اور ایران بعض ایسے نکات پر بات چیت کے لیے آمادہ ہو گیا ہے جن پر وہ ماضی میں گفتگو سے انکار کرتا رہا تھا تاہم اس بات کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی کہ مذاکرات کسی قابل قبول معاہدے پر منتج ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے سامنے اپنے بیان میں مارکو روبیو نے کہا کہ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کے بعض پہلوؤں پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے جو چند ماہ قبل تک ممکن نہیں سمجھی جا رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ ایران ایسے معاملات پر مذاکرات کے لیے تیار ہوا ہے جن کا ذکر کرنے سے بھی وہ پہلے گریز کرتا تھا تاہم یہ اس بات کی ضمانت نہیں کہ بالآخر کوئی ایسا معاہدہ طے پا جائے گا جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔
روبیو کے مطابق ایرانی قیادت کے اندر پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔
تاہم امریکی وزیر خارجہ کی امید افزا باتیں ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطوں میں نئی رکاوٹیں پیدا ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل کی جانب سے بیروت پر حملوں کی دھمکیوں کے بعد ایران نے ثالثوں کے ساتھ رابطے معطل کر دیے ہیں۔
ادھر امریکا کی میزبانی میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیاسی مذاکرات کا نیا دور بھی جاری ہے جبکہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پہلے سے موجود نازک جنگ بندی کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
مزید پڑھیے: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
مارکو روبیو نے کانگریس میں 2 روزہ بریفنگ کے دوران ایران، مشرق وسطیٰ، کیوبا، غیر ملکی امداد اور دیگر خارجہ پالیسی امور پر قانون سازوں کے سوالات کے جوابات دیے۔
ایران جنگ پر سوالاتکانگریس میں اپنی پہلی عوامی پیشی کے دوران روبیو کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں سے متعلق سخت سوالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
متعدد ڈیموکریٹ ارکان نے جنگ کے آغاز سے قبل کانگریس کی منظوری نہ لینے پر تنقید کی جبکہ بیشتر ریپبلکن ارکان نے ایران کے خلاف کارروائی کی حمایت کی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر بھی بحث جاری ہے خصوصاً ایسے وقت میں جب انہوں نے ماضی میں مشرق وسطیٰ میں طویل جنگوں سے گریز کا وعدہ کیا تھا۔
جنگ کے معاشی اثراتایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی آمدورفت متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ نے ایران جنگ بندی معاہدے کی شرائط مزید سخت کر دیں، تہران کے جواب کا انتظار، امریکی میڈیا
ماہرین کے مطابق دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل اور قدرتی گیس کی تجارت آبنائے ہرمز کے ذریعے ہوتی ہے اس لیے خطے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
کیوبا سے متعلق بھی سخت مؤقفمارکو روبیو کو سماعت کے دوران کیوبا کے حوالے سے بھی سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ سماعت کے آغاز پر چند مظاہرین نے ’کیوبا کو جینے دو‘ اور ’کیوبن عوام کا قتل بند کرو‘ جیسے نعرے لگائے جنہیں بعد ازاں کمرے سے باہر نکال دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے: ایران ڈیل کے قریب ہیں، مگر جلد بازی نقصان دہ ہوگی، صدر ٹرمپ کا فوکس نیوز کو انٹرویو میں دعویٰ
روبیو، جو کیوبن تارکین وطن خاندان سے تعلق رکھتے ہیں، طویل عرصے سے کیوبا کو امریکی قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کیوبا کے امریکا کے مخالف ممالک کے ساتھ تعلقات واشنگٹن کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
امریکی انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں کیوبا کے سابق صدر راول کاسترو کے خلاف فوجداری الزامات بھی عائد کیے ہیں جس پر کیوبا کی حکومت نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے سیاسی اقدام قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ تیار، ٹرمپ کی منظوری باقی، امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ
مارکو روبیو بدھ کے روز بھی کانگریس کی مختلف کمیٹیوں کے سامنے پیش ہو کر امریکی محکمہ خارجہ کے بجٹ اور خارجہ پالیسی سے متعلق معاملات پر بریفنگ دیں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو ایران امریکا تنازع ایران امریکا مذاکرات ایران امریکا معاہدہ