پنجاب حکومت کا انتہا پسند جماعت پر پابندی کیلئے وفاق کو سفارش کرنے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
—فائل فوٹو
پنجاب حکومت نے پولیس افسروں کی شہادت اور املاک کی تباہی میں مبینہ طور پر ملوث جماعت پر پابندی کے لیے وفاق سے سفارش کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولیس افسران کی شہادت، سرکاری املاک کی تباہی میں ملوث رہنماؤں اور کارکنوں پر مقدمات چلیں گے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ نفرت انگیزی، اشتعال انگیزی اور قانون شکنی میں ملوث افراد کو فوری گرفتار کیا جائے گا، قائدین کو انسداد دہشت گردی ایکٹ کے فورتھ شیڈول میں شامل کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے پنجاب: ایک ماہ میں غیرقانونی اسلحہ جمع کروانے کا الٹی میٹم جاری، سزا میں اضافے کی بھی منظوری پنجاب حکومت کا صوبے میں 10 روز کیلئے دفعہ 144 کا نفاذاعلامیے کے مطابق انتہا پسند جماعت کی تمام جائیدادیں اور اثاثے محکمہ اوقاف کی تحویل میں دی جائیں گی، تمام بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جائیں گے۔
دوسری جانب محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے ایک ماہ میں غیرقانونی اسلحہ جمع کروانے کا الٹی میٹم جاری کردیا گیا۔
اس حوالے سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق ایک ماہ کے اندر شہری اپنے قانونی اسلحے کو خدمت مرکز سے رجسٹر کرائیں گے، جبکہ اسلحہ فروشوں اور تمام ڈیلرز کے اسٹاک کا معائنہ کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔
پنجاب میں نئے اسلحہ لائسنس جاری کرنے پر مکمل پابندی کا حکم دے دیا گیا ہے جبکہ پنجاب حکومت نے وفاقی حکومت سے اسلحہ فیکٹریز اور مینوفیکچررز کو ریگولرائز کرنے کی سفارش کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پنجاب حکومت گیا ہے
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔ ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔