ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی کا جوڑ' کرکٹ میں ایک اور نیا دلچسپ فارمیٹ متعارف
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
ٹیسٹ ، ون ڈے اور پھر ٹی ٹوئنٹی کے بعد کرکٹ کے کھیل میں ایک اور نیا دلچسپ فارمیٹ متعارف کروا دیا گیا ۔کرکٹ کی دنیا میں ایک نیا اور سنسنی خیز فارمیٹ جسے 'ٹیسٹ ٹوئنٹی' کا نام دیا گیا ہے کو 16 اکتوبر کو متعارف کرایا گیا۔ کرکٹ کے اس نئے فارمیٹ کا منصوبہ بھارتی اسپورٹس سرمایہ کار گورو بہیروانی نے پیش کیا۔ٹیسٹ ٹی ٹوئنٹی کو بین الاقوامی کرکٹ کا چوتھا فارمیٹ قرار دیا جا رہا ہے۔اس منصوبے کی تقریب رونمائی ایک آن لائن میٹنگ میں کی گئی جس میں ٹیسٹ ٹی ٹوئنٹی کے بانی گورو بہیروانی سمیت دیگر عہدیدار شریک ہوئے۔یہ نیا فارمیٹ ٹیسٹ کرکٹ کی حکمتِ عملی کو ٹی ٹوئنٹی کی تیز رفتار اور سنسنی کے ساتھ جوڑے گا۔اس فارمیٹ کو بین الاقوامی کرکٹ کے کئی بڑے ناموں کی حمایت حاصل ہے، جن میں اے بی ڈی ویلیئرز، سر کلائیو لائیڈ اور میتھیو ہیڈن شامل ہیں۔ویب سائٹ کے مطابق ’ٹیسٹ ٹوئنٹی‘ کا ہر میچ مجموعی طور پر 80 اوورز پر مشتمل ہو گا اور ٹیسٹ کرکٹ کی طرح اس کی مجموعی طور پر 4 اننگز ہوں گی۔ ہر ٹیم 20 اوورز پرمشتمل2 اننگز کھیلے گی اور ٹیسٹ میچ کرکٹ کی طرح پہلی اننگز کی لیڈ دوسری اننگز میں جمع ہو جائے گی۔اس فارمیٹ میں ٹیسٹ کرکٹ کی طرح ’فالو آن‘ اور ٹی ٹوئنٹی کی طرح پاوور پلے بھی ہو گا۔ ہر ٹیم 5 بولر استعمال کر سکے گی اور ہر بولر دونوں اننگز میں مجموعی طور پر 8 اوورز کر واسکے گا۔اس فارمیٹ میں وائیڈ اور نو بالز کے لیے ٹی ٹوئنٹی والے قوانین لاگو ہوں گے، یعنی فری ہٹ بھی ملے گی۔ٹیسٹ ٹوئنٹی فارمیٹ کا پہلا ایونٹ جونیئر ٹیسٹ ٹوئنٹی چیمپئن شپ جنوری 2026 میں منعقد ہوگی، جس میں 13 سے 19 سال کے کھلاڑی حصہ لیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ٹیسٹ ٹوئنٹی ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی کی طرح اور ٹی
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔