کرکٹ کے شوقین افراد کے لیے خوشخبری ہے! ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کے بعد اب کرکٹ میں ایک نیا اور انوکھا فارمیٹ ’’ٹیسٹ ٹوئنٹی‘‘ متعارف کرا دیا گیا ہے، جو ٹیسٹ کرکٹ کی گہرائی اور ٹی ٹوئنٹی کی تیزی کو ایک ساتھ جوڑتا ہے۔
یہ نیا فارمیٹ 16 اکتوبر کو باقاعدہ طور پر لانچ کیا گیا۔ اس کا تصور بھارتی اسپورٹس انویسٹرگورو بہیروانی نے پیش کیا، جنہیں ٹیسٹ ٹوئنٹی فارمیٹ کا بانی بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ افتتاحی تقریب ایک آن لائن میٹنگ کے ذریعے منعقد ہوئی، جس میں کرکٹ سے جڑے کئی اہم شخصیات نے شرکت کی۔
کرکٹ کا چوتھا بین الاقوامی فارمیٹ
ٹیسٹ ٹوئنٹی کو بین الاقوامی کرکٹ کاچوتھا فارمیٹ قرار دیا جا رہا ہے، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اسے کئی بڑے اسٹارز کی حمایت بھی حاصل ہے، جن میں اے بی ڈی ویلیئرز، سر کلائیو لائیڈ اور میتھیو ہیڈن جیسے لیجنڈری کھلاڑی شامل ہیں۔
فارمیٹ کی خاص باتیں کیا ہیں؟
ہر میچ80 اوورز پر مشتمل ہوگا۔
ٹیمیںدو، دو اننگز کھیلیں گی — ہر اننگز 20 اوورز کی ہوگی۔
4 اننگز والے اس میچ میں ٹیسٹ کرکٹ کی طرح پہلی اننگز کی برتری (لیڈ) دوسری اننگز میں شمار ہوگی
ٹیسٹ کرکٹ کی طرح فالو آن اور ٹی ٹوئنٹی کی طرح پاور پلے کا بھی تصور موجود ہوگا۔
ہر ٹیم 5 بولرز استعمال کر سکے گی، اور ہر بولر دونوں اننگز میں ملا کر زیادہ سے زیادہ 8 اوورز کروا سکے گا۔
وائیڈ اور نو بالز پرفری ہٹ دی جائے گی، بالکل ٹی ٹوئنٹی کے قوانین کی طرح۔
میچ کا نتیجہ جیت، ہار، ڈرا یا ٹائی — چاروں ممکن ہو سکتے ہیں۔
اگر دونوں ٹیموں کا اسکور برابر ہو تو فیصلہ سپر اوور سے کیا جائے گا۔
خاص بات یہ ہے کہ اگر کوئی ٹیم اپنی اننگزپانچ وکٹیں باقی رکھتے ہوئے مکمل کر لے، تو اسے میچ ڈرا پر ختم کرنے کا اختیار ہوگا۔
پہلا ایونٹ کب ہوگا؟
ٹیسٹ ٹوئنٹی کا پہلا باقاعدہ ایونٹ **”جونیئر ٹیسٹ ٹوئنٹی چیمپئن شپ”** کے نام سے **جنوری 2026** میں منعقد ہوگا۔ اس ٹورنامنٹ میں **13 سے 19 سال** کے نوجوان کھلاڑی حصہ لیں گے، تاکہ ان کی صلاحیت، حکمت عملی، اور کرکٹ فہم کو جانچا جا سکے۔
فرنچائزز اور ٹیمیں
کل6 فرنچائزز شامل ہوں گی۔
ان میں3 ٹیمیں بھارت سے جبکہ باقی دبئی، لندن اور امریکا سے ہوں گی۔
ہر ٹیم میں16 کھلاڑی ہوں گے، جن میں نصف بھارتی اور نصف دیگر ممالک سے ہوں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اور ٹی ٹوئنٹی ٹیسٹ ٹوئنٹی کی طرح

پڑھیں:

سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل

نیتن یاہو - فوٹو: فائل

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔ 

برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔

خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔

سعودی عرب سے جوہری معاہدہ، ٹرمپ نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط رکھ دی

اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔

صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔

تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
  • سرکاری ملازمین پنشن میں اضافہ، خیبرپختونخوا حکومت کا بڑا ریلیف اعلان
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق