اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان، انڈیکس ایک لاکھ 64 ہزار پوائنٹس کی سطح سے بھی گر گیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
کراچی:
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے دوران اتارچڑھاؤ کے بعد مندی کے رجحان ریکارڈ کیا گیا اور 100 انڈیکس ایک لاکھ 64 ہزار پوائنٹس کی سطح سے بھی گر گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق برآمدات میں 3.9فیصد کی کمی، درآمدات میں 14فیصد کے اضافے، آئی ایم ایف کی 3.6فیصد شرح نمو کی پیش گوئی کے ساتھ مہنگائی اور خسارے سے متعلق انتباہ، انسٹیٹیوشنز کی پرافٹ ٹیکنگ کے باعث پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں جمعے کو بھی اتارچڑھاو کے باوجود مندی کا تسلسل برقرار رہا۔
اسٹاک مارکیٹ میں مندی کے سبب 57.
مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز اگرچہ مندی سے ہوا لیکن نچلی قیمتوں پر مخصوص شعبوں میں خریداری سرگرمیوں سے ایک موقع پر 586پوائنٹس کی تیزی سے انڈیکس کی ایک لاکھ 65 ہزار پوائنٹس کی سطح بحال ہوگئی تھی تاہم سرمایہ کاری کے شعبوں کی اپنی لیوریج پوزیشن میں کمی کی غرض سے حصص کی آف لوڈنگ نے مارکیٹ کو مندی سے دوچار کردیا جس سے ایک موقع پر 1327پوائنٹس مندی رونما ہوئی۔
اختتامی لمحات میں نچلی قیمتوں پر دوبارہ خریداری سرگرمیاں بڑھنے سے مندی کی شدت میں کمی واقع ہوئی نتیجتاً کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 638.50 پوائنٹس کی کمی سے 163806.22 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔
کے ایس ای 30 انڈیکس 343.31پوائنٹس کی کمی سے 50123.85پوائنٹس، کے ایس ای آل شئیر انڈیکس 417.42 پوائنٹس کی کمی سے 99845.79 پوائنٹس اور کے ایم آئی 30 انڈیکس 850.63پوائنٹس کی کمی سے 238530.50پوائنٹس پر بند ہوا۔
کاروباری حجم جمعرات کی نسبت 36 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر ایک ارب 97کروڑ 86 لاکھ 54 ہزار 33 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 483 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا، جن میں 166 کے بھاؤ میں اضافہ 277 کے داموں میں کمی اور 40 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پوائنٹس کی کمی سے پوائنٹس کی سطح
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔