کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 638.50 پوائنٹس کی کمی سے 163806.22 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے دوران اتارچڑھاؤ کے بعد مندی کے رجحان ریکارڈ کیا گیا اور 100 انڈیکس ایک لاکھ 64 ہزار پوائنٹس کی سطح سے بھی گر گیا۔ تفصیلات کے مطابق برآمدات میں 3.9فیصد کی کمی، درآمدات میں 14 فیصد کے اضافے، آئی ایم ایف کی 3.

6 فیصد شرح نمو کی پیش گوئی کے ساتھ مہنگائی اور خسارے سے متعلق انتباہ، انسٹیٹیوشنز کی پرافٹ ٹیکنگ کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعے کو بھی اتارچڑھاو کے باوجود مندی کا تسلسل برقرار رہا۔ اسٹاک مارکیٹ میں مندی کے سبب 57.34 فیصد حصص گرگئے، جبکہ سرمایہ کاروں کے مزید ایک کھرب 7 ارب 55 کروڑ 66 لاکھ 43 ہزار 770 روپے ڈوب گئے۔

مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز اگرچہ مندی سے ہوا، لیکن نچلی قیمتوں پر مخصوص شعبوں میں خریداری سرگرمیوں سے ایک موقع پر 586 پوائنٹس کی تیزی سے انڈیکس کی ایک لاکھ 65 ہزار پوائنٹس کی سطح بحال ہوگئی تھی، تاہم سرمایہ کاری کے شعبوں کی اپنی لیوریج پوزیشن میں کمی کی غرض سے حصص کی آف لوڈنگ نے مارکیٹ کو مندی سے دوچار کر دیا، جس سے ایک موقع پر 1327 پوائنٹس مندی رونما ہوئی۔ اختتامی لمحات میں نچلی قیمتوں پر دوبارہ خریداری سرگرمیاں بڑھنے سے مندی کی شدت میں کمی واقع ہوئی۔

کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 638.50 پوائنٹس کی کمی سے 163806.22 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔ کے ایس ای 30 انڈیکس 343.31 پوائنٹس کی کمی سے 50123.85 پوائنٹس، کے ایس ای آل شئیر انڈیکس 417.42 پوائنٹس کی کمی سے 99845.79 پوائنٹس اور کے ایم آئی 30 انڈیکس 850.63 پوائنٹس کی کمی سے 238530.50 پوائنٹس پر بند ہوا۔ کاروباری حجم جمعرات کی نسبت 36 فیصد کم رہا اور مجموعی طور پر ایک ارب 97کروڑ 86 لاکھ 54 ہزار 33 حصص کے سودے ہوئے، جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 483 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا، جن میں 166 کے بھاؤ میں اضافہ 277 کے داموں میں کمی اور 40 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پوائنٹس کی کمی سے پوائنٹس کی سطح کے ایس ای

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود