data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251018-06-3

 

کراچی (کامرس رپورٹر) اے سی سی اے (ایسوسی ایشن آف چارٹرڈ سرٹیفائیڈ اکاؤنٹنٹس) نے گلوبل ایتھکس ڈے 2025 کے موقع پر اخلاقی قیادت اور دیانت داری کو مضبوط بنانے کے عزم کو ایک بار پھر اجاگر کیا۔یشیا پیسیفک خطے میں منعقد ہونے والے اس آن لائن ایونٹ میں اے سی سی اے کے ارکان، شراکت داروں اور بزنس لیڈرز کو ایک پلیٹ فارم پراکٹھا کیا گیا، جہاں مالیاتی ماہرین کے کردار پر گفتگو کی گئی کہ کس طرح ٹیکنالوجی، پائیداری اور عالمی تغیرات کاروباری دنیا کو نئی شکل دے رہے ہیں اور بدلتی ہوئی سماجی توقعات کے دور میں اعتماد، شفافیت اور جوابدہی کے اصولوں کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔سیشن کا آغاز اخلاقیات کی اہمیت اور اے سی سی اے کی دیرپا وابستگی سے ہوا۔ اپنے خطاب میںڈائریکٹر ایشیا پیسیفک، اے سی سی اے پلکت ابرول نے کہا ” اخلاقیات کوئی تکنیکی مہارت نہیں بلکہ قیادت کی ایک بنیادی خوبی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ایک پیچیدہ دنیا میں اخلاقیات ہمارا رہنما اصول ہیں۔ یہ ہمیں آسان نہیں بلکہ درست فیصلے کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ اے سی سی اے کے لیے اخلاقیات ابتدا سے ہی ہمارے وجود کا حصہ رہی ہیں۔”اس موقع پر‘‘Upholding Integrity in a World of Digital Disruption’’کے عنوان سے منعقد ہونے والی پینل ڈسکشن کی ماڈریٹر گل فشاں شیخ ایف سی سی اے، ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور ہیڈ آف ٹریڑری و کارپوریٹ فنانس، ایزی پیسہ بینک لمیٹڈ تھیں۔ پینل میں شامل دیگر ماہرین میں گروپ مینجنگ ڈائریکٹر، لنکا ہاسپٹلز کارپوریشن چامینڈا کماراسری، ؛ وائس چیئر، انڈیپنڈنٹ آڈٹ ایڈوائزری کمیٹی، اقوام متحدہ سریش راج شرما،؛ ، ٹیکس اسٹریٹیجسٹ، ڈیلائیٹ جنوب مشرقی ایشیانگوین ترونگ نگن ایف سی سی اے؛ اور سینئر ڈائریکٹر کنسلٹنگ، ای وائے فورڈ روڈز شہزیب سانول ایف سی سی اے، شامل تھے۔ہیڈ آف اے سی سی اے پاکستان، اسد حمید خان نے کہا:”سینئر مالیاتی ماہرین نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ جیسے جیسے روزمرہ کاموں میں ڈیجیٹل اوراے آئی کے آلات شامل ہو رہے ہیں، اداروں اور پیشہ وران کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ ٹیکنالوجی انسانی اقدار کو مضبوط کرے ناکہ ان کی جگہ لے۔

کامرس رپورٹر.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اے سی سی اے

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم