فجر شیخ پیا دیس سدھار گئیں
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
تھیٹر سے اپنے کیریئر کا آغاز کرنے والی پاکستانی شوبز انڈسٹری کی ابھرتی ہوئی اداکارہ فجر شیخ نے اپنی زندگی کے نئے باب کا آغاز کردیا۔
فوٹوز اینڈ ویڈیوز شیئرنگ پلیٹ فارم انسٹاگرام پر پوسٹ شیئر کر کے 30 سالہ اداکارہ نے اپنی شادی کا اعلان کیا۔
سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیو اور تصاویر میں اداکارہ کو دلکش گہرے سرخ عروسی جوڑے میں دیکھا جاسکتا ہے، جبکہ ان کے دولہے نے اس پُرمسرت موقع پر روایتی سیاہ شیروانی کا انتخاب کیا۔
کراچی سے تعلق رکھنے والی فجر شیخ نے اس خاص دن کو اپنے قریبی دوستوں اور رشتے داروں کے ساتھ منایا۔
ان کی شادی کی تصاویر سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو رہی ہیں اور مداحوں کی جانب سے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا جارہا ہے۔
واضح رہے کہ 2022 میں نشر ہونے والے ڈرامہ سیریل ’بیٹیاں‘ میں ارم نامی لڑکی کے کردار سے فجر شیخ نے ڈیبیو کیا تھا۔
اس ڈرامے میں فجر شیخ کی پرفارمنس کو خوب پسند کیا گیا، بعدازاں انہوں نے ڈرامہ سیریل ’قرض جاں‘ میں بینش کے سپورٹنگ رول سے شہرت کی بلندیوں کو چھوا۔
علاوہ ازیں فجر شیخ جیو فلمز کی پیشکش ہارر فلم ’دیمک’ میں بھی اداکاری کے جوہر بکھیرتی نظر آئیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔