سیلاب زدہ علاقوں میں30 کروڑ سے زاید کے بجلی بل موخر
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (آن لائن) سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے صارفین کے لیے لیسکونے بجلی کے بلوں میں بڑا ریلیف فراہم کر دیا ہے۔ کمپنی نے 30 کروڑ روپے سے زاید کے واجبات کی وصولی عارضی طور پر موخر کر دی ۔ ذرائع کے مطابق لیسکو کے 48 ہزار سے زاید صارفین کو یہ سہولت فراہم کی گئی ہے، جن میں 43 ہزار گھریلو صارفین شامل ہیں۔ سیلاب کے باعث متاثرہ علاقوں کے گھریلو،
کمرشل، صنعتی اور ٹیوب ویل صارفین سے تاحکم ثانی بل وصول نہیں کیے جائیں گے۔وفاقی حکومت کی ہدایت پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیلاب زدگان کو مالی دباؤ سے بچایا جا سکے۔ عارضی طور پر موخر کیے گئے بلز آئندہ مہینوں میں اقساط کی صورت میں و صول کیے جائیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے 6 ماہ کی آسان اقساط میں واجبات کی وصولی کی تجویز منظور کر لی ہے، جس سے سیلاب متاثرین کو ادائیگی میں سہولت حاصل ہو گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔