عدالت کا سخت اقدام: علیمہ خان کے تیسری بار ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
راولپنڈی کی انسدادِ دہشتگردی عدالت نے عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان کے خلاف مسلسل عدم پیشی پر تیسری بار ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے۔ عدالت نے پولیس کو ہدایت دی ہے کہ علیمہ خان کو گرفتار کر کے 22 اکتوبر کو عدالت میں پیش کیا جائے۔ یہ مقدمہ 26 نومبر کے احتجاج سے متعلق ہے، جس میں علیمہ خان سمیت 11 ملزمان نامزد ہیں۔ سماعت انسدادِ دہشتگردی عدالت کے جج امجد علی شاہ کی عدالت میں ہوئی، جہاں دیگر 10 ملزمان عدالت میں پیش ہوئے جبکہ استغاثہ کے پانچ گواہان بھی مالِ مقدمہ سمیت موجود تھے۔ عدالت نے علیمہ خان کے ضامن عمر شریف کے بھی ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے اور ان کی جائیداد کی تصدیق کے لیے ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کو ہدایات جاری کر دیں۔ یہ تیسری مرتبہ ہے کہ عدالت نے علیمہ خان کی عدم پیشی پر ایسا حکم جاری کیا ہے، جس کے بعد پولیس کو ان کی گرفتاری کے لیے فوری اقدامات کا پابند کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔