WE News:
2026-07-24@04:43:47 GMT

ٹک ٹاک نے پاکستان میں مزید ڈھائی 2 کروڑ ویڈیوز ڈیلیٹ کردیں

اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT

ٹک ٹاک نے پاکستان میں مزید ڈھائی 2 کروڑ ویڈیوز ڈیلیٹ کردیں

ویڈیو شیئرنگ کی مقبول ایپ ٹک ٹاک نے سال 2025 کی دوسری سہ ماہی (اپریل تا جون) کے دوران پاکستان میں کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی پر ڈھائی کروڑ سے زائد ویڈیوز ڈیلیٹ کردیں۔

یہ انکشاف ٹک ٹاک کی جانب سے پیر کے روز کمیونٹی گائیڈ لائنز انفورسمنٹ رپورٹ میں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: سورا 2 ریلیز: اوپن اے آئی کا یوٹیوب اور ٹک ٹاک کو پیچھے چھوڑنے کا عزم

ٹک ٹاک نے بیان میں کہا گیا کہ پاکستان میں کمیونٹی گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی پر کل 25،448،992 ویڈیوز کو ہٹایا گیا۔

رپورٹ کے مطابق99.

7  فیصد ویڈیوز از خود (پروایکٹیولی) حذف کی گئیں جبکہ96.2  فیصد ویڈیوز پوسٹ ہونے کے 24 گھنٹوں کے اندر ہٹائی گئیں۔

پاکستان میں ٹک ٹاک پر متعدد بار پابندی

یاد رہے کہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے ٹک ٹاک پر غیراخلاقی اور غیر مہذب مواد کی شکایات پر متعدد مرتبہ پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔

پہلی بار اکتوبر 2020 میں ٹک ٹاک پر پابندی لگائی گئی تھی جو کمپنی کی یقین دہانی کے بعد 10 روز میں ختم کر دی گئی تھی۔

عالمی اعداد و شمار بھی جاری

ٹک ٹاک کے مطابق دنیا بھر میں 18 کروڑ 90 لاکھ ویڈیوز کو حذف کیا گیا جو پلیٹ فارم پر اپلوڈ کی گئی تمام ویڈیوز کا 0.7 فیصد بنتا ہے۔

ان میں سے163،962،241  ویڈیوز خودکار نظام کے ذریعے ہٹائی گئیں۔ 7،457،309  ویڈیوز بعد ازاں نظرثانی کے بعد بحال کی گئیں۔

مزید پڑھیے: ٹک ٹاک کی ملکیت کا معاملہ، امریکا اور چین میں فریم ورک ڈیل طے پاگئی

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ99.1  فیصد ویڈیوز کو از خود ہٹایا گیا،94.4 فیصد ویڈیوز کو 24 گھنٹوں کے اندر حذف کیا گیا۔

جعلی اکاؤنٹس اور کم عمر صارفین کا خاتمہ

ٹک ٹاک کے مطابق7  کروڑ 69 لاکھ 91 ہزار 660 جعلی اکاؤنٹس حذف کیے گئے۔

2 کروڑ 59 لاکھ 4 ہزار 708 ایسے اکاؤنٹس بھی بند کیے گئے جن کے صارفین کی عمر 13 سال سے کم ہونے کا شبہ تھا۔

حذف شدہ ویڈیوز کی نوعیت

ٹک ٹاک کی رپورٹ کے مطابق حذف کی گئی ویڈیوز کی مختلف نوعیت کی تھیں جن میں سے تقریباً 30.6 فیصد حساس یا بالغ تھیمز پر مبنی تھیں جو پلیٹ فارم کی مواد کی پالیسیوں کے خلاف تھیں۔

اس کے علاوہ 14 فیصد ویڈیوز نے حفاظتی اور اخلاقی معیار کی خلاف ورزی کی جبکہ 6.1 فیصد ویڈیوز نے پرائیویسی اور سیکیورٹی قوانین کی خلاف ورزی کی۔

اس کے علاوہ تقریباً 45 فیصد ویڈیوز کو جھوٹی معلومات پھیلانے کے الزام میں ہٹایا گیا اور 23.8 فیصد ویڈیوز ایسے تھیں جو ترمیم شدہ یا مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ مواد پر مشتمل تھیں۔

پاکستان میں گزشتہ سہ ماہی کی کارکردگی

2025 کی پہلی سہ ماہی (جنوری تا مارچ) میں ٹک ٹاک نے پاکستان میں 24,954,128 ویڈیوز حذف کی تھیں۔

مزید پڑھیں: کینیڈا: ٹک ٹاک کی بچوں کے ڈیٹا کے تحفظ کی کوششیں ناکافی قرار

یعنی اپریل سے جون کے درمیان ہٹائی گئی ویڈیوز کی تعداد میں تقریباً 5 لاکھ کا اضافہ دیکھنے میں آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ٹک ٹاک ٹک ٹاک ویڈیوز ٹک ٹاک ویڈیوز حذف

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ٹک ٹاک ٹک ٹاک ویڈیوز ٹک ٹاک ویڈیوز حذف کی خلاف ورزی فیصد ویڈیوز پاکستان میں ویڈیوز کو ٹک ٹاک کی ٹک ٹاک نے کی گئی حذف کی

پڑھیں:

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ

اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔

تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔

ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔

تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔

پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟

توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • مزہ کرکرا: اے آئی سے بنے جعلی جانوروں نے اصلی ویڈیوز بھی مشکوک بنادیں
  • وزیر اعظم شہباز شریف سے چینی کاروباری وفد کی ملاقات، بزنس ٹو بزنس شراکت داری سے پاک چین دوستی مزید مستحکم ہو گی ، وزیر اعظم
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا