کراچی: نومولود کی لاش برآمد، مبینہ طور پر چوتھی منزل سے پھینکا گیا
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
فائل فوٹو
کراچی کے علاقے لانڈھی میں نومولود بچی کی لاش ملی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کو مبینہ طور پر عمارت کی چوتھی منزل سے پھینکا گیا ہے۔ عمارت میں موجود دو مشکوک افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بچی کی لاش کپڑوں میں لپٹی ہوئی تھی۔
بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ بچی کے والد وپین گپتا نے الزام لگایا کہ اسپتال نے بار بار فیس بڑھائی اور ڈلیوری میں تاخیر کی، جس کے نتیجے میں نومولود کی جان چلی گئی۔
ابتدائی اطلاع کے مطابق بچی چوتھی منزل سے پھینکی گئی ہے۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر تفتیش کا آغاز کردیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے تاحال واضح نہیں ہو سکا کہ بچی کو کس نے پھینکا۔ تاہم قریبی عمارت سے ایک مشکوک خاتون اور مرد کو حراست میں لیا گیا ہے جس سے تفتیش جاری ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ جائے وقوع کے اطراف میں لگے کیمرے کی مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کا کہنا ہے کہ کہ بچی
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔