ٹیرف دھمکیاں؛ کولمبیا نے امریکا سے اپنے سفیر کو واپس بلالیا
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
کولمبیا پر ڈونلڈ ٹرمپ کے الزامات اور ٹیرف دھمکیوں پر دونوں ممالک کے درمیان سفارتی بحران شدت اختیار کر گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق کولمبیا اور امریکا کے درمیان کشیدگی خطرناک موڑ پر پہنچ گئی۔ کولمبیا نے اپنے سفیر ڈینیئل گارسیا-پینا کو فوری طور پر واپس بُلا لیا۔
کولمبیا کے بقول یہ فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت بیانات اور مجوزہ تجارتی پابندیوں کے بعد کیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے منشیات فروشی کا الزام عائد کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ امریکا اب کولمبیا کو دی جانے والی تمام مالی امداد بھی بند کر دے گا۔
امریکا اور کولمبیا کے درمیان تنازع میں اُس وقت اضافہ ہوا جب کولمبیا نے امریکی فوج کی جانب سے کیریبین میں مبینہ منشیات بردار کشتیوں پر حملوں کی مذمت کی۔
امریکی فوج کے ان کشتیوں پر حملے میں درجنوں افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ جس کی کولمبیا کے صدر نے شدید الفاظ میں مذمت کی تھی۔
کولمبیا کے صدر کا کہنا تھا کہ امریکی فوج کی فائرنگ میں مارے جانے والے تین افراد کا تعلق مقامی غریب خاندان تھا۔
جس پر صدر ٹرمپ نے کولمبیا کے صدر کو منشیات فروشوں کا لیڈر اور ہمدرد قرار دیتے ہوئے ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی دی تھی۔
جواب میں کولمبیا کے صدر پیٹرو نے کہا تھا کہ میں نہ تاجر ہوں، نہ منشیات فروش۔ میرے دل میں لالچ نہیں۔ میں کسی صورت کولمبیا کی توہین برداشت نہیں کروں گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کولمبیا کے صدر
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔