وفاقی وزیرِ ہوابازی خواجہ آصف نے کہا ہے کہ برطانیہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کے بعد پاکستان اب امریکا کے ساتھ بھی براہِ راست فضائی رابطے بحال کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

نجی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیرِ ہوابازی خواجہ آصف نے کہا کہ برطانیہ کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کی منظوری ملنے کے بعد پاکستان اب امریکا کے ساتھ براہِ راست فضائی رابطے بحال کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے بتایا کہ امریکی ہوابازی حکام کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امید ہے جلد اجازت مل جائے گی اور مزید بتایا کہ حکومت بین الاقوامی معیار پر پورا اترنے اور حفاظتی اقدامات میں بہتری کے لیے کام کر رہی ہے، جس سے عالمی روٹس میں توسیع ممکن ہوگی۔

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے ترجمان نے امریکا کے روٹس کو پی آئی اے کے لیے انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ شمالی امریکا میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بلا تعطل پروازوں کی بڑی طلب موجود ہے۔

ایک ماہرِ ہوابازی کے مطابق امریکا کے فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) کے ایک وفد نے حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا تھا تاکہ حفاظتی آڈٹ کیا جا سکے۔

اگر ان آڈٹس کے نتائج مثبت رہے تو پی آئی اے کو ایف اے اے کی جانب سے کیٹیگری 1 کا درجہ مل سکتا ہے، جو امریکا کے لیے براہِ راست پروازوں کی بحالی کے لیے ضروری ہے۔

پی آئی اے کا اتحاد ایئر ویز کے ساتھ کوڈ شیئر معاہدہ
دوسری جانب پی آئی اے نے پیر کو اعلان کیا کہ اس نے متحدہ عرب امارات کی اتحاد ایئر ویز کے ساتھ کوڈ شیئر معاہدہ کر لیا ہے۔

یہ شراکت داری 31 اکتوبر سے نافذالعمل ہوگی اور اس کا دائرہ کار کارگو سروسز اور فریکوئنٹ فلائر پروگرامز تک پھیلے گا۔

ترجمان نے کہا کہ یہ معاہدہ پی آئی اے کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے اور بتایا کہ اس میں مسافر پروازیں بھی شامل ہوں گی، یہ انتظام خاص طور پر ان روٹس کے لیے فائدہ مند ہوگا جن پر پی آئی اے کی براہِ راست سروس موجود نہیں اور اس سے مسافروں کو اتحاد کے وسیع نیٹ ورک تک رسائی حاصل ہوگی۔

ترجمان کے مطابق اس کوڈ شیئر معاہدے سے پی آئی اے کی سروس میں بہتری آئے گی اور آمدنی میں اضافے کی توقع ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: امریکا کے پی آئی اے کے ساتھ کے لیے کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار

امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟

گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔

گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔

ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔

خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔

مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!

گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔

کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔

جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔

مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟

گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔

منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟

کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘

متعلقہ مضامین

  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • فرانس: نفسیاتی مریضوں کے علاج کی ذمہ داری گدھوں کے سپرد
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار