پی آئی اے کی پروازوں سے پرندے ٹکرانے کے واقعات میں اضافہ، چند طیارے گراؤنڈ
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
لاہور:
قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کو ایک اور بڑا دھچکا، اندرون و بیرون ملک جہازوں سے پرندے ٹکرانے کے واقعات میں اضافہ ہوگیا جس کے سبب بوئنگ، ایئر بس اور اے ٹی آر کو نقصان پہنچا جبکہ کچھ گراؤنڈ کر دیے گئے۔
تقریباً 9 ماہ میں 90 حادثات صرف پی آئی اے کے مسافر طیاروں سے پرندے ٹکرانے کے پیش آئے جس کی وجہ سے پی آئی اے کو اربوں روپے کا نقصان ہوا اور فضائی آپریشن میں شدید مشکلات کا سامنا رہا، مسافروں کو منزل مقصود پر پہنچانے میں گھنٹوں تاخیر بھی ہوئی۔
پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کے مطابق پرندوں کے ٹکرانے کے لیے مختلف اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ سسٹم لگانے کے لیے ٹینڈرنگ کا عمل مکمل ہوگیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کو ملنے والی دستاویزات کے مطابق پاکستان کی قومی ایئرلائن پی آئی اے جس کو پہلے ہی جہازوں کی کمی کا سامنا ہے، رہی سہی کسر جہازوں سے پرندے ٹکرانے کے بڑھتے ہوئے واقعات نے پوری کر دی۔ اندرون و بیرون ملک فضائی آپریشن شدید متاثر ہوا۔
پرندے ٹکرانے میں لاہور علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ 16 واقعات کے ساتھ پہلے نمبر پر، 15 مرتبہ پرندے ٹکرانے کے ساتھ اسلام آباد ایئرپورٹ دوسرے نمبر پر، 13 واقعات کے ساتھ ملتان ایئرپورٹ تیسرے نمبر پر، 9 مرتبہ پرندے ٹکرانے کے ساتھ کراچی اور پشاور ایئرپورٹس چوتھے نمبر پر رہے جبکہ کوئٹہ اور سیالکوٹ ایئرپورٹس 6 واقعات کے ساتھ پانچویں نمبر پر رہے۔
سعودی عرب کے جدہ، مدینہ منورہ اور دمّام ائیرپورٹ پر ایک ایک اور دو بار جہاز سے پرندے ٹکرائے۔ اسی طرح عرب امارات کے شارجہ، دبئی اور بحرین میں ایک ایک بار پی آئی اے کے جہازوں کے ساتھ پرندے ٹکرائے گئے اور ملائیشیا کے کوالالمپور ایئرپورٹ پر بھی پی آئی اے کے جہاز کے ساتھ پرندہ ٹکرایا گیا جبکہ 4 بار نامعلوم جگہ پر بھی دوران پرواز پرندے ٹکرانے کی پائلٹ نے رپورٹ کی۔
پرندے ٹکرانے کی وجہ سے پی آئی اے کے تین بوئنگ 777، ایک ایئر بس 20 اور دو اے ٹی آر کو نقصان پہنچا۔ صرف گزشتہ ماہ ستمبر میں اندرون اور بیرون ملک پی آئی اے کے جہازوں سے پرندے ٹکرانے کے 26 واقعات رونما ہوئے جبکہ گزشتہ برس سال 2024 میں ستمبر کے مہینے میں 10 بار قومی ایئرلائن پی آئی اے کے جہازوں سے پرندے ٹکرائے گئے تھے۔
مجموعی طور پر پی آئی اے کے جہازوں سے پرندے ٹکرانے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ برس سال 2024 میں 83 واقعات نو ماہ کے عرصے میں ہوئے جبکہ رواں برس نو ماہ میں 90 حادثات ہوئے یعنی گزشتہ برس کے مقابلے میں سات واقعات زیادہ ہوئے، زیادہ تر پرندے ٹکرانے کے واقعات لینڈنگ اور ٹیک آف رول کرتے ہوئے بھی ہوئے۔
پی آئی اے ذرائع کا کہنا ہے کہ پرندوں کے ٹکرانے سے پی آئی اے کو اربوں روپے کے مالی نقصانات کے ساتھ ساتھ فضائی آپریشن بھی متاثر ہوا، مسافروں کو اندرون اور بیرون ملک کئی کئی گھنٹے تاخیر کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے پی آئی اے کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچا۔
دوسری جانب، پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ لاہور سمیت ملک بھر کے ایئرپورٹ پر پرندوں سے بچاؤ کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ لاہور میں پنجاب حکومت اور کنٹونمنٹ بورڈ کے ساتھ مل کر آپریشن بھی کیے گئے ہیں۔
انہوں ںے کہا کہ لاہور ایئرپورٹ کے لینڈنگ اور ٹیک آف کی اپروچ لائن پر آبادیوں کے ساتھ ساتھ کھانے پینے کے مراکز بڑی تعداد میں کھل چکے ہیں، ان علاقوں میں لوگوں نے کبوتروں سمیت دیگر پرندے بھی پال رکھے ہیں، ان پر بھی توجہ دی گئی۔
ترجمان کے مطابق پنجاب حکومت کے تعاون سے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جو روزانہ کی بنیاد پر ممکن سہولیات کے تحت کارروائی بھی کر رہی ہے جبکہ ڈائریکٹر جنرل پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی از خود بھی اس سلسلے میں لاہور سمیت دیگر ایئرپورٹ کا دورہ بھی کر چکے ہیں اور جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ سسٹم بھی لگا رہے ہیں جس کے بعد ایئرپورٹ کی حدود میں پرندوں کے داخلے میں خاطر خواہ کمی آئے گی۔
اس مرتبہ لاہور سمیت پنجاب بھر میں بارشیں بھی زیادہ ہوئیں جو پرندوں کی آمد میں اضافے کا باعث بھی بنی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جہازوں سے پرندے ٹکرانے کے پرندے ٹکرانے کے واقعات پی آئی اے کے جہازوں سے پی آئی اے بیرون ملک کے ساتھ
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.