باہمی اتحاد کے ذریعے ہی ملک کو بھنور سے نکالا جا سکتا ہے، وزیر داخلہ محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
گورنر سندھ کامران ٹیسوری اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ ملک موجودہ نازک صورتحال سے گزر رہا ہے، ایسے وقت میں قومی یکجہتی ناگزیر ہے اور صرف باہمی اتحاد کے ذریعے ہی ہم اس بھنور سے نکل سکتے ہیں۔
کراچی میں وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی اور محسن نقوی کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہاکہ پاکستان کو دہشتگردی کے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صنعت سے سیاحت تک، ایس آئی ایف سی کے اقدامات سے ترقی کی نئی راہیں ہموار
ان کا کہنا تھا کہ محسن نقوی مختلف سیاسی و مذہبی رہنماؤں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں، جب کہ وہ ملک بھر میں فتنۃ الخوارج کے خلاف جاری آپریشن کی براہِ راست نگرانی کر رہے ہیں۔ وہ دہشتگردوں کے خلاف مؤثر کارروائیاں کرنے کے ساتھ ساتھ تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں بھی لے رہے ہیں۔
گورنر سندھ نے مزید کہاکہ وفاقی وزیر داخلہ امن و امان کی بحالی کے لیے دن رات سرگرم ہیں اور ان کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں۔ ’کراچی میں امن و امان سے متعلق وزیر داخلہ کو کچھ تجاویز بھی پیش کی ہیں۔‘
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ملکی استحکام اور ترقی میں ایم کیو ایم پاکستان کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب مل کر قومی مفاد میں آگے بڑھیں، کیونکہ اتحاد ہی میں کامیابی پوشیدہ ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم سب کا مشترکہ مقصد یہ ہے کہ ملک کو ترقی کے اس سفر میں مزید آگے لے کر جائیں اور ہر محاذ پر استحکام پیدا کریں۔
وفاقی وزیر تعلیم و رہنما ایم کیو ایم پاکستان خالد مقبول صدیقی نے اس موقع پر کہا کہ کراچی ملک کا سب سے اہم اور بڑا شہر ہے، ہم وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی کراچی آمد کا خیرمقدم کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پوری قوم اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور ملکی ترقی میں ان کے کلیدی کردار کو سراہتی ہے، وزیراعظم شہباز شریف
انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں افواجِ پاکستان نے ملکی عزت، جمہوریت کے استحکام اور امن و سلامتی کے لیے جو کردار ادا کیا ہے، اس میں وزیر داخلہ محسن نقوی کی خدمات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ گورنر سندھ کامران ٹیسوری وفاق کے نمائندے کی حیثیت سے کراچی میں مؤثر کردار ادا کر رہے ہیں، اور ان کی کارکردگی دیگر صوبوں کے گورنرز کے لیے بھی ایک مثالی مثال ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews ایم کیو ایم کامران ٹیسوری گورنر سندھ محسن نقوی وفاقی وزیر داخلہ وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایم کیو ایم کامران ٹیسوری گورنر سندھ محسن نقوی وفاقی وزیر داخلہ وی نیوز وزیر داخلہ محسن نقوی وفاقی وزیر داخلہ کامران ٹیسوری گورنر سندھ رہے ہیں کے لیے نے کہا
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔