محسن نقوی کی بلاول بھٹو سے ملاقات، ملکی استحکام کیلئے ملکر کام کرنے کا عزم
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہےکہ موجودہ چیلنجز کا مقابلہ اتحاد اور اتفاق سے ہی کیا جا سکتا ہے۔
وزیرداخلہ محسن نقوی نے بلاول ہاؤس میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی جس دوران باہمی دلچسپی کے امور،سیاسی اور ملکی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
کراچی: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بلاول ہاؤس میں ملاقات کی، اس موقع پر ملک میں امن وامان کی صورت حال پر بات چیت ہوئی۔@BBhuttoZardari pic.
— PPP (@MediaCellPPP) October 20, 2025
محسن نقوی نے بلاول بھٹو زرداری کو ملک کی داخلی سلامتی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا۔
اس دوران بلاول بھٹو زرداری نے داخلی سکیورٹی کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ موجودہ چیلنجز کا مقابلہ اتحاد اور اتفاق سے ہی کیا جا سکتا ہے۔
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے داخلی استحکام کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بلاول بھٹو زرداری محسن نقوی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔