صوبے میں کوئی سیاسی مقدمہ یا تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری نہیں ہوگی، سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
صوبے میں کوئی سیاسی مقدمہ یا تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری نہیں ہوگی، سہیل آفریدی WhatsAppFacebookTwitter 0 20 October, 2025 سب نیوز
پشاور (آئی پی ایس )نومنتخب وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کا پہلا اجلاس منعقد ہوا جس میں ضم شدہ اضلاع کے لیے اہم ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا گیا۔
دوران اجلاس وزیراعلی نے ٹرائبل میڈیکل کالج، ٹرائبل یونیورسٹی آف ماڈرن سائنسز اور شہید ارشد شریف کے نام سے یونیورسٹی آف انویسٹیگیٹیو اینڈ ماڈرن جرنلزم کے قیام کا اعلان کیا۔ اس کے ساتھ تمام اضلاع میں پلے گراونڈز بنانے اور سیف سٹی پراجیکٹ کے آغاز کی منظوری بھی دی گئی۔اجلاس میں گڈ گورننس روڈ میپ پر پیشرفت، امن و امان کی صورتحال، اور انسدادِ بدعنوانی کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔وزیراعلی سہیل آفریدی نے کہا کہ عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈالنے کی کوشش کی گئی، لیکن صوبائی افسران نے جمہوری مینڈیٹ کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا۔ ان افسران کو ایوارڈ دینے کا اعلان کیا گیا جبکہ عوامی مفاد کے خلاف جانے والے افسران کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا گیا۔سہیل آفریدی نے واضح کیا کہ صوبے میں کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے، کسی کو کرپشن کی اجازت نہیں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازم اور حکومت سب عوام کے خادم ہیں، اور جو افسر عوامی اعتماد پر پورا نہیں اترے گا وہ اپنے عہدے پر برقرار نہیں رہے گا۔وزیراعلی نے کہا کہ وہ روایتی انداز میں کام کرنے کے لیے نہیں آئے بلکہ عوام کو حقیقی تبدیلی کا احساس دلانے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ صوبے میں رٹہ سسٹم کے خاتمے کے لیے کانسیپچوئل ایگزامینیشن سسٹم متعارف کرایا جائے۔مزید برآں، وزیراعلی نے واضح کیا کہ صوبے میں کسی بھی سیاسی مقدمے یا تھری ایم پی او کے تحت گرفتاری نہیں کی جائے گی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ضم اضلاع کی تعمیر و ترقی کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جائے گا تاکہ وہاں کے عوام کو تعلیم، صحت اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرٹی چوک فلائی اوور منصوبے کو اس کی ٹائم لائنز کے مطابق مکمل کیا جائے ، چیئرمین سی ڈی اے ٹی چوک فلائی اوور منصوبے کو اس کی ٹائم لائنز کے مطابق مکمل کیا جائے ، چیئرمین سی ڈی اے وزیراعظم آئندہ ہفتے 3روزہ دورے پر سعودی عرب روانہ ہونگے جدہ میں پاکستان پیپلز پارٹی سعودی عرب کے زیر اہتمام سانحۂ کارساز کے شہداء کے لیے دعائیہ تقریب کسی کو پسندیدہ بندہ، کسی کو رشتےدار لاناہے‘،جسٹس محسن اختر کیانی کےسنیارٹی سے متعلق اہم ریمارکس پاک فوج کے دباؤ کی وجہ سے پاک افغان مذاکرات ممکن ہوئے، پختونخوا کے عوام کی رائے سپر ٹیکس؛ سپریم کورٹ میں ٹیکس پر سینیٹ کی تجاویز اور قومی اسمبلی کے اختیارات پر بحثCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: سہیل آفریدی کے لیے
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔