سہیل آفریدی کو وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ آمد پر گارڈ آف آنر پیش
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
خیبر پختون خوا کے نو منتخب وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی حلف اٹھانے کے بعد سی ایم سیکریٹریٹ پہنچ گئے۔
سیکریٹریٹ آمد پر پولیس کے چاق چوبند دستے نے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔
خیبرپختونخوا: نئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے حلف اٹھا لیاخیبرپختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے حلف اٹھالیا۔
وزیرِ اعلیٰ سے سی ایم سیکریٹریٹ کے عملے کا تعارف کروایا گیا اور وزیرِ اعلیٰ سیکریٹریٹ کے حکام نے انہیں دفتری امور کے حوالے سے بریفنگ دی۔
اس موقع پر وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیکریٹریٹ ایک عوامی جگہ اور صوبے کا چہرہ ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیکریٹریٹ میں آنے والوں کے ساتھ ہمیشہ اچھا برتاؤ کیا جائے، سیکرٹریٹ کے معمولات میں وقت کی پابندی کی جائے۔
.ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سہیل ا فریدی
پڑھیں:
وزیراعلیٰ پختونخوا سہیل آفریدی کا دھرنا ہنگامی مشاورت کے بعد ختم، عدالت جانے کا اعلان
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی: خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کا 10 گھنٹے سے جاری دھرنا ہنگامی مشاورت کے بعد ختم ہوگیا، جس کے بعد انہوں نے عدالت جانے کا اعلان کیا ہے۔
نجی ٹی وی کی ر پورٹ کے مطابق دھرنے میں علامہ ناصر عباس کی آمد کے بعد ایک مشاورتی نشست ہوئی جس میں مختلف سیاسی رہنماؤں سمیت محمود خان اچکزئی، مینا خان، شاہد خٹک اور مشال یوسفزئی بھی شریک تھے۔
مشاورت کے بعد فیصلہ سامنے آیا کہ نمازِ فجر کے فوراً بعد وزیرِ اعلیٰ اپنا دھرنا ختم کر دیں گے اور آئندہ لائحہ عمل کے لیے منگل کے روز دوبارہ کارکنوں کو احتجاج کی کال دی جائے گی۔ اسی دوران یہ بھی طے پایا کہ عدالت سے رجوع کرتے ہوئے آج ہی توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی جائے گی تاکہ قانونی راستے سے بھی اس معاملے کو آگے بڑھایا جا سکے۔
مشاورت مکمل ہونے کے بعد علامہ ناصر عباس اور محمود خان اچکزئی دھرنے کے مقام سے روانہ ہو گئے، جب کہ وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی وہیں موجود رہے۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے واضح کیا کہ یہ دھرنا کسی طے شدہ منصوبے کا حصہ نہیں تھا۔ وزیرِ اعلیٰ کو یقین تھا کہ بطور صوبائی چیف ایگزیکٹو انہیں اپنے قائد سے ملاقات کی اجازت ملے گی، لیکن حالات اس کے برعکس نکلے۔ انہوں نے کہا کہ یہاں کوئی شرافت کی زبان نہیں سمجھتا۔ سہیل آفریدی نے جمہوری حق کے اظہار کے لیے دھرنے کا راستہ اختیار کیا، بظاہر یہ دھرنا عدالتی حکم تک جاری رہتالیکن حکمتِ عملی کو آگے بڑھانے کے لیے وقتی طور پر اسے ختم کرنا ضروری ہو گیا۔
انہوں نے پی ٹی آئی قیادت کو مشورہ دیا کہ اگر بانی چیئرمین کی بہنوں کی ملاقات یقینی بنانی ہے تو پارٹی اپنی عوامی قوت استعمال کرے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے شرم کی بات ہے کہ بانی پی ٹی آئی جیل میں ہیں اور ہم ایوانوں میں بیٹھ کر کارروائی آگے بڑھاتے رہیں۔