پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے شائقین کے لیے ایک بڑی خوشخبری سامنے آگئی۔

یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل کے 10 سال مکمل، پی سی بی کا دستاویزی فلم بنانے کا اعلان

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے لیگ میں توسیع کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے اور سنہ 2026 کے سیزن سے پی ایس ایل میں 6 کے بجائے آٹھ ٹیمیں شرکت کریں گی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی ٹیموں کے لیے جن شہروں پر غور کیا جا رہا ہے ان میں حیدرآباد، میرپور خاص، سیالکوٹ اور فیصل آباد شامل ہیں تاہم حتمی فیصلہ تاحال نہیں کیا گیا۔

فیصلہ بولی (بِڈنگ) کے عمل اور فرنچائز خریدنے والے فریقین کی دلچسپی کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

مزید پڑھیے: پی ایس ایل 10 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کردیا گیا، کپتان کون؟

موجودہ فرنچائز معاہدے 2025 کے سیزن کے اختتام پر ختم ہو رہے ہیں جس کے بعد سال 2026 سے لیگ میں 2 نئی ٹیموں کی شمولیت ممکن ہو سکے گی۔

پی ایس ایل میں ٹیموں کی تعداد بڑھانے کا مقصد نہ صرف لیگ کو مزید مقبول بنانا ہے بلکہ ملک کے دیگر بڑے شہروں کو بھی کرکٹ کے اس میگا ایونٹ کا حصہ بنانا ہے۔

مزید پڑھیں: پی ایس ایل 10 کا کامیابی سے انعقاد پرامن پاکستان کی جیت ہے، چیئرمین پی سی بی محسن نقوی

اب دیکھنا یہ ہے کہ بولی کے اس مقابلے میں کون سے شہر بازی لے جاتے ہیں اور پی ایس ایل کے اگلے سیزن میں میدان کس نام سے سجایا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پی ایس ایل 2026 پی ایس ایل 2026 میں نئی ٹیمیں.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پی ایس ایل 2026 پی ایس ایل 2026 میں نئی ٹیمیں پی ایس ایل

پڑھیں:

بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان

اسلام آباد:

نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔

ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • مالی سال 26-2025 کے اختتام پر کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ 12 جون مقرر
  • بجٹ میں پیٹرولیم لیوی بڑھانے کا امکان
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
  • فیفا ورلڈکپ 2026 ، کونسی ٹیم فیورٹ؟، اوپٹا سپر کمپیوٹر نے حیران کن پیشگوئی کردی
  • بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ