پی ایس ایل 2026 میں 2 نئی ٹیموں کی شمولیت کا امکان، کونسے شہر زیر غور؟
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے شائقین کے لیے ایک بڑی خوشخبری سامنے آگئی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل کے 10 سال مکمل، پی سی بی کا دستاویزی فلم بنانے کا اعلان
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے لیگ میں توسیع کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے اور سنہ 2026 کے سیزن سے پی ایس ایل میں 6 کے بجائے آٹھ ٹیمیں شرکت کریں گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نئی ٹیموں کے لیے جن شہروں پر غور کیا جا رہا ہے ان میں حیدرآباد، میرپور خاص، سیالکوٹ اور فیصل آباد شامل ہیں تاہم حتمی فیصلہ تاحال نہیں کیا گیا۔
فیصلہ بولی (بِڈنگ) کے عمل اور فرنچائز خریدنے والے فریقین کی دلچسپی کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
مزید پڑھیے: پی ایس ایل 10 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کردیا گیا، کپتان کون؟
موجودہ فرنچائز معاہدے 2025 کے سیزن کے اختتام پر ختم ہو رہے ہیں جس کے بعد سال 2026 سے لیگ میں 2 نئی ٹیموں کی شمولیت ممکن ہو سکے گی۔
پی ایس ایل میں ٹیموں کی تعداد بڑھانے کا مقصد نہ صرف لیگ کو مزید مقبول بنانا ہے بلکہ ملک کے دیگر بڑے شہروں کو بھی کرکٹ کے اس میگا ایونٹ کا حصہ بنانا ہے۔
مزید پڑھیں: پی ایس ایل 10 کا کامیابی سے انعقاد پرامن پاکستان کی جیت ہے، چیئرمین پی سی بی محسن نقوی
اب دیکھنا یہ ہے کہ بولی کے اس مقابلے میں کون سے شہر بازی لے جاتے ہیں اور پی ایس ایل کے اگلے سیزن میں میدان کس نام سے سجایا جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پی ایس ایل 2026 پی ایس ایل 2026 میں نئی ٹیمیں.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پی ایس ایل 2026 پی ایس ایل 2026 میں نئی ٹیمیں پی ایس ایل
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔