ٹی ایل پی کے 36 سو فنانسرز کی نشاندہی کر لی: عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری—فائل فوٹو
پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ ٹی ایل پی کے 36 سو فنانسرز کی نشاندہی کر لی ہے، مالی مدد کرنے والوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمے ہوں گے، قبر کا استعمال کر کے چندہ اکٹھا کرنے اور اشتعال انگیزی کی اجازت نہیں دیں گے۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ٹی ایل پی کی 130 مساجد حکومتی تحویل میں لی جا چکی ہیں، جبکہ اس کے 223 مدارس کی جیو ٹیگنگ کر لی گئی ہے، وفاقی حکومت کو اس جماعت کو بین کرنے کی سفارش کر دی گئی ہے، امید ہے کہ اس شر پسند جماعت کو جلد بین کر دیا جائے گا۔
لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوئی مسجد کسی طور پر مسمار نہیں کی جا رہی، شیطانی و خرافاتی آئیڈیاز مذکورہ جماعت کے ذہن میں آتے ہیں، مساجد و مدارس کا نظم و نسق محکمۂ اوقاف کے زیرِ انتظام کیا جا رہا ہے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ کسی فرقے، جماعت یا گروہ کے خلاف ایکشن نہیں، دہشت گرد سوچ کے خلاف ایکشن ہے، والدین بچوں کو اس جماعت کی سرگرمیوں سے بچائیں، ورنہ ان پر دہشت گردی کے مقدمے ہوں گے، جو بچہ ایسی سرگرمی میں ملوث ہو گا اسے کہیں داخلہ ملے گا نہ ویزا، نہ ہی ملک میں کوئی سہولت ملے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ ٹی ایل پی کے 6 مدارس حکومتی زمین پر بنائے گئے جن کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے، قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمے ہوں گے، جماعت کے سربراہ اور ان کے بھائی کو ٹریس کیا جا رہا ہے، بہت جلد قانون کی گرفت میں ہوں گے، خود بھاگے ہوئے ہیں، لوگوں سے کہتے ہیں کہ باہر نکل آئیں اور آگ لگائیں۔
پنجاب کی وزیرِاطلاعات، عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ جو قبر جہاں ہے وہیں رہے گی لیکن قبر پر چندہ اکٹھا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، قبروں کا احترام کرتے ہیں، کسی کی قبر کہیں منتقل نہیں کی جا رہی۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ ہم نہیں چاہتے کہ ملک میں پریشر گروپ بنیں، تمام حملوں کی باقاعدہ فوٹیجز موجود ہیں، شاہدرہ میں بھی پولیس اہلکار پر تشدد کی ویڈیو موجود ہے، سیاستدانوں اور صحافیوں کو دھمکی دینے کے لیے آرگنائزڈ سیل بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ قبر کا استعمال کر کے چندہ اکٹھا کرنے اور اشتعال انگیزی کی اجازت نہیں دیں گے، حکومت نے 330 مساجد کا انتظام سنبھال لیا ہے، تمام مساجد کھلی ہیں اور نماز کے لیے استعمال ہو رہی ہیں، ٹی ایل پی کے مدرسے بھی جلد کھول دیے جائیں گے، اہلسنت و الجماعت کے علماء کو ان مدارس کا کنٹرول دیا جائے گا، حکومت اس جماعت کے خلاف عدالتی کارروائی کو یقینی بنائے گی۔
پنجاب کی وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ دہشت گردی کے 33 مقدمات میں نامزد افراد کو گرفتار کیا جائے گا، دونوں بھائیوں کو گرفتار کرنے کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں، ٹی ایل پی کے سربراہ کے 95 بینک اکاؤنٹس ہیں، مسروقہ و غیر مسروقہ جائیداد سیل کر دی گئی، ان کے گھر سے قیمتی سامان بھی برآمد ہوا، ان کے گھر سے ایک کلو 920 گرام سونا برآمد ہوا، 898 گرام چاندی، 68 نایاب گھڑیاں اور قیمتی چیزیں برآمد ہوئیں، انہوں نے بے نامی جائیدادیں خریدیں، علاقہ نو گو ایریا بنایا، ان کے ہیڈ کوارٹر کے آس پاس انہوں نے بے نامی جائیدادیں خرید رکھی تھیں، اس مذہبی جماعت کی لیڈر شپ کے خلاف کریک ڈاؤن چل رہا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بابا جی کی قبر کہیں بھی ٹرانسفر نہیں کی جا رہی، یہ بھی ہماری پالیسی نہیں ہے، قبر کا استعمال کر کے چندہ اکٹھا کرنا یا اشتعال انگیزی کی اجازت نہیں ہو گی، دہشت گرد جماعتوں کو چندہ دینے والے 38 فنانسرز کی نشاندہی ہو چکی ہے، تمام اکاؤنٹس منجمد کر دیے گئے ہیں، مالی مدد کرنے والوں کے خلاف دہشت گردی کے مقدمے ہوں گے۔
وزیرِ اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا کہ والدین اپنے بچوں پر نظر رکھیں، انہیں کسی کا ایندھن بننے کی اجازت مت دیں، مریدکے کے مقدمات کے لیے اسپیشل پراسیکیوشن سیل قائم کر دیا گیا ہے، مریدکے میں 3 راہ گیر شہید ہوئے، 48 شہری زخمی ہوئے، واقعے میں 110 پولیس اہلکار زخمی ہوئے، 18 اہلکار گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے، واقعے میں 8 پولیس وینز کو آگ لگائی گئی،اسلحے سمیت پولیس وینز پر قبضہ کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ مذکورہ مذہبی جماعت پر ریاست اور حکومت نے جو فیصلہ لیا اس پر عملدرآمد ہو رہا ہے، سارے فساد کو فلسطین اور غزہ کا مقدمہ کہا گیا، اینٹوں سے بھری ٹرالیاں ان کے ساتھ چل رہی تھیں، ان کا پروپیگنڈا سیل بیٹھ کر جھوٹ بول رہا ہے، ان کے ورکرز ریسکیو 1122 کے لوگوں کو مار پیٹ کر آگے بڑھتے نظر آئے، ٹی ایل پی کے ذمے داران نے پولیس کو پکڑا اور پھر مارا، مذہبی جماعت کے سربراہ کہتے رہے کہ پولیس والوں کو جانے نہ دینا، جدید آلات سے لیس دفتر سے صحافیوں کو دھمکیاں دی جاتیں، آرگنائزڈ سیل موجود ہے جس میں کچھ نوجوان کام کر رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: دہشت گردی کے مقدمے ہوں گے نہیں کی جا رہی پنجاب کی وزیر کی اجازت نہیں کا کہنا ہے کہ بخاری نے کہا ٹی ایل پی کے چندہ اکٹھا نے کہا کہ جماعت کے انہوں نے کے خلاف رہا ہے کے لیے
پڑھیں:
نوازشریف کا گلگت تک موٹروے بنانے، ایئرپورٹ بڑا کرنے اور الیکٹرک بسیں چلانے کا اعلان
گلگت (ڈیلی پاکستان آن لائن )سابق وزیراعظم نوازشریف نے گلگت کا دورہ کیا اور اس دوران انتخابی مہم کے سلسلے میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مانسہر ہ سے گلگت تک موٹروے بننی چاہیے، دل کے ہسپتال نے کام شروع کر دیا جو مریم نواز نے کروایا اسے شاباش دیتاہوں، یہاں پر دل کے آپریشن بھی ہونے چاہئیں، یہاں حکومت آتی ہے تو میں ہر دوسرے مہینے آوں گا اور اپنی نگرانی میں منصوبوں کی تکمیل کراوں گا، شہبازشریف سے گلگت اور سکردو میں الیکٹرک بسیں بھیجنے کا بھی کہوں گا، پورے ملک میں چلتی ہیں تو یہاں بھی چلنی چاہئیں۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
تفصیلات کے مطابق نوازشریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بہت سالوں بعد آپ سے گفتگو ہو رہی ہے ، شائد آپ نے مجھے بھلا دیاہے، لیکن میں آپ کو یاد دلانے آیاہوں کہ جب میں وزیراعظم تھا تو کئی مرتبہ گلگت آیا اور سکردو بھی گیا ، میں ان شہروں میں وزیراعلیٰ بننے سے بھی پہلے آیا، یہ سارا علاقہ دیکھا تھا، مجھے پہاڑوں کا شوق ہے، مجھے سکردو اور گلگت بلتستان سے دلی محبت ہے ، جب علاقے سے محبت ہے تو آپ سے کیوں نہیں ہو گی، آپ تو میرے دل میں بستے ہیں، جو میں نے ایئرپورٹ سے نکلنےکے بعد سڑکوں حلیہ دیکھا اس سے مجھے بہت تکلیف اور دکھ ہوا کیونکہ جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ کہاں ہے، جس گلگت بلتستان کو میں سینے سے لگا کر رکھتا تھا ، چاہتا تھا کہ یہاں ترقی ہو، یہاں کے لوگ روزگار پر فائز ہوں لیکن اس کی سڑکوں کو دیکھ کر بہت دکھ ہوا، راستے میں تین چار مرتبہ کہا کہ میں نے ایک زمانے میں یہ سڑکیں بہت شوق سے بنائی تھی ، ہم نے مانسہرہ سے شروع کی اور تھاہ کوٹ تک بڑی اچھی بن گئی لیکن وہ گلگت تک بننی تھی لیکن کیوں نہیں بنی ، اس نے گلگت سے آگے خنجراب تک جانا تھا،کیوں نہیں بنائی گئی۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
انہوں نے کہا کہ میں کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، آپ کو حکومت کا موقع ملا تو آپ نے اس علاقے کو کیوں نظر انداز کیا ، آپ کی توجہ کن چیزوں پر رہی ہے، میں وہ نوازشریف ہوں جو کسی کی برائی کر کے یا تنقید کر کے ووٹ نہیں مانگتا ، ہم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں، اس سڑک کا منصوبہ میں نے ہی شروع کیا تھا لیکن جو یہاں تک نہیں پہنچی ، اسے پہنچنا چاہیے تھا، وہ سڑک میں نے سکردو تک پہنچائی، اس پر 50 ارب روپے کا خرچہ آیا، یہ آپ کا حق ہے جو آپ کو ملنا چاہیے ، میرا دل روتا ہے کہ یہ سب کچھ ایسے کیوں ہونے دیا گیا، آپ پر جو پیسہ لگنا چاہیے تھا وہ کیوں نہیں لگایا گیا، یہ ہسپتال، بجلی کے کارخانے ،ہائیڈل پاور پلانٹس ہم نے لگائے، دوسرے منصوبے ابھی تک مکمل نہیں ہوئے ، مجھے بتائیں کسی اور پارٹی نے یہاں ایک اینٹ بھی لگائی ہو یا کوئی منصوبے کی بنیاد بھی رکھی ہو؟، ہم نے مانسہرہ سے اسلام آباد تک 4لین والی ہائی وے بنائی ، وہی ہائی وے یہاں بھی آنی چاہیے تھی، جو میرے زمانے میں ایئر پورٹ تھا آج بھی وہی ہے، اسے وسیع ہی نہیں کیا گیا،یہاں تو بوئنگ جیٹ آنے چاہیے تھے جو سکردو جاتے ہیں، میں شہبازشریف سے میٹنگ کروں گا اور کہوں گاکہ اس ایئر پورٹ کو بڑا کریں، گنجائش پیدا کریں کہ یہاں پر جیٹ لینڈ کر سکیں ،ہفتے میں تین فلائٹس ہیں ، یہاں 30 فلائٹس ہونی چاہیے،گلگت سے سکردو تک آپ 3 گھنٹوں میں پہنچتے ہیں تو پہلے کتنے گھنٹوں میں پہنچتے تھے، 9 گھنٹے کے سفر کو ہم نے تین گھنٹے پر کھڑا کر دیاہے، ہمیں دعائیں تو دیں۔
لاہور ائیرپورٹ اغواء کیس کا ڈراپ سین، غیرملکی خاتون دوست کے ساتھ رضامندی سے گئی
نوازشریف نے کہا کہ کے پی کے میں لواری ٹنل بنائی جو کہ 70 سے بن رہی تھی جو کہ مکمل ہی نہیں ہو رہی تھی ، ہم نے اربوں روپے خرچ کیئے اور مکمل کرکے چھوڑا۔مجھے یہاں گرمیوں میں 12 اور سردیوں میں 22 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ منظور نہیں، ووٹ ملتا ہے یا نہیں لیکن ان چیزوں سے آپ کو محروم نہیں رکھیں گے، میں کبھی نہیں کہوں گا کہ ووٹ دو گے تو کروں گا ، اگر نہیں دو گے تو پھر بھی کروں گا، میں شہبازشریف اور مریم سے کہوں گا کہ دونوں یہاں آئیں، اگر ہماری حکومت آتی ہے تو میں ہر دوسرے یا تیسرے مہینے آوں گا، تاکہ جو منصوبے ہم شروع کریں، میں چاہوں گا کہ ان کی تکمیل ہوتے دیکھوں ، اپنی نگرانی میں مکمل کراوں۔ آپ نے مجھے دیس نکالا دیا، مجھ سے گلا نہ کرو، میں یہ گلا سننے کیلئے تیار نہیں، قصور آپ کا بھی ہے، آپ نے مجھے دیس چھوڑ کر جانے کیوں دیا۔
ڈیل مکمل جھوٹ ہے ، پی ٹی آئی کوئی ڈیل نہیں کررہی، عمران خان کو خاموش کروانے کے لیے قید تنہائی میں رکھاگیا ہے،علیمہ خان
سابق وزیراعظم کا کہناتھا کہ اتنا خوبصورت علاقہ ہے جس کو بگاڑ دیا گیاہے، میں آج سب سے مخاطب ہوں ، میں اس شاہرا ہ کو شہبازشریف سے بات کر کے خنجراب تک پہنچاوں گا، چین اور پاکستان کے درمیان اس راستے سے تجارت کا فائدہ آپ لوگوں کو ہوگا، گلگت خوشحال ہو جائے گا ، آپ کو تو گھر بیٹھے پیسے ملیں گے، یہ ہمارا سی پیک کا مرکز ہے، اس کو بہت اچھا ہونا چاہیے، میں یہ ضرورکروں گا، اگر پنجاب میں یا اسلام آباد میں کسی اور جگہ پر الیکٹرک بسیں چلتی ہیں تو یہاں بھی چلنی چاہئیں، میں شہبازشریف سے بات کر کے الیکٹرک بسیں یہاں بھی اور سکردوں میں بھی بھجواؤں گا، اسلام آباد سے کراچی تک موٹروے بن گئی ہے، مانسہرہ سے یہاں تک بھی موٹروے بننی چاہیے ، میں دیکھوں گا یہ سارے کام اپنی نگرانی میں کراوں ۔
جماعت اسلامی کا بجٹ میں ماہانہ سوا لاکھ روپے تک تنخواہ پر انکم ٹیکس مکمل ختم کرنے کا مطالبہ
یہاں پر دل کے ہسپتال نے کام شروع کر دیاہے، لیکن یہ بہت سال پہلے ہونا چاہیے تھا، یہ مریم نواز نے کروایا ہے ، میں اسے شاباش دیتاہوں ، یہاں دل کے آپریشن ہونے چاہئیں اور کسی کو دوسرے شہر نہ جانا پڑے، کینسر کے ہسپتال کو ہم نے ہی یہاں بنایا تھا اور اسے مزید وسیع کریں گے ۔ہم نے اپنا فرض پورا دا کیا اور اگر ہمیں کام کرنے کا موقع دیا جاتا تو آج ان میں سے کوئی مسئلہ باقی نہ رہتا، نوازشریف جب بات کرتاہے تو سچ بولتا ہے ، جھوٹی بات نہیں کرتا، یہاں پر بھی بہت سارے لوگوں کے پاس گھر نہیں ہے ، یہاں پر بھی لوگوں کو اپنے گھر بنانے کیلئے قرضے ملنے چاہیے جیسے باقی پاکستان میں بن رہے ہیں، شہبازشریف اور پنجاب میں مریم نوازشریف اس کام کو آگے بڑھا رہی ہیں، تقریبا ڈیڑھ لاکھ لوگوں کو گھر ملے ہیں، یہاں کی آبادی کم ہے ، یہاں سب کو مل جائیں گے ، نوجوانوں کو روزگار کیلئے بغیر سود قرضے ملنے چاہئیں، تاکہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں، یہ جتنی جلدی ہوسکے ہونا چاہیے ، جب ہماری حکومت قائم ہوگی تو سب سے پہلے ان کاموں کی بنیاد رکھی جائے گی ، بچوں کو سکالرشپ اور لیپ ٹاپ سکیم میں اضافہ کیا جائے گا ،خواتین کیلئے مخصوص یونیورسٹی قائم کی جائے گی ۔
کرپٹو ٹریڈرز ہو جائیں تیار، نئے بجٹ میں کرپٹو منافع پر 30 فیصد تک ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
ان کا کہناتھا کہ یہاں پر ہم نے دیامیر بھاشا ڈیم کیلئے اپنے زمانے میں 100 ارب روپے دیئے، تاکہ زمین خریدی جا سکے ، آپ جانتے ہیں کہ ایک بابا ڈیم بھی تھا ،وہ کہتا تھا کہ میں ریٹائر ہو کر وہیں کیمپ لگا کر بیٹھ جاوں گا، میں نے دو تین بندے بھیجے کہ دیکھو تلاش کرو وہ کیمپ کہاں ہیں ، وہ واپس آئے اور کہا کہ کہیں کیمپ نہیں ملا، اس طرح کی باتیں نہیں کرنی چاہیے، مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ 2015 میں 100 ارب دیا اور ڈیم آج تک نہیں بنا، کام شروع ہو تا تو کب کا بن چکا ہوتا۔
مزید :