زمین پر زندگی کب ختم ہوگی؟ ناسا کے سپر کمپیوٹر کا چونکا دینے والا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سان فرانسسکو: دنیا کی سب سے بڑی خلائی تحقیقاتی ایجنسی ناسا نے ایک ایسی سائنسی پیشگوئی جاری کی ہے جس نے ماہرین اور عام عوام دونوں کو حیرت اور تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔
جاپان کی ٹوہو یونیورسٹی کے اشتراک سے تیار کردہ اس سپرکمپیوٹر ماڈل نے یہ انکشاف کیا ہے کہ زمین پر موجود زندگی اپنی قابلِ رہائش مدت کے آخری مرحلوں میں داخل ہوچکی ہے اور آنے والے وقت میں ایسا دور آسکتا ہے جب ہمارا سیارہ زندگی کے لیے موزوں نہیں رہے گا۔
اس تحقیقی ماڈل کے مطابق زمین کی فضا میں موجود آکسیجن کی سطح اور سورج کی حرارت میں بتدریج ہونے والا اضافہ مستقبل میں زمین کے قدرتی توازن کو بری طرح متاثر کرے گا۔
ماہرین نے پیشگوئی کی ہے کہ تقریباً ایک ارب سال کے اندر اندر زمین کی قابلِ رہائش مدت ختم ہوسکتی ہے، تاہم انسانوں کے لیے یہ خطرہ اس سے کہیں پہلے پیدا ہوسکتا ہے کیونکہ ماحولیاتی تبدیلیاں اور بڑھتی ہوئی حرارت روزمرہ زندگی کو ناقابلِ برداشت بنا سکتی ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سورج کی روشنی میں وقت کے ساتھ اضافہ ہوگا، جس سے زمین کی سطح گرم ہوتی جائے گی۔ حرارت بڑھنے سے سمندروں کا درجہ حرارت بھی بلند ہوگا، فضا میں نمی کم ہوگی اور آکسیجن کی سطح گھٹتی جائے گی۔
یہ تمام عوامل مل کر زمین کو ایک ایسے ماحول میں تبدیل کردیں گے جہاں انسان، جانور اور پودے اپنی موجودہ صورت میں زندہ نہیں رہ سکیں گے۔
اس سپرکمپیوٹر ماڈل میں کئی قدرتی عوامل شامل کیے گئے ہیں، جن میں موسمیاتی تبدیلیاں، براعظمی نقل و حرکت (ٹیکٹونک سرگرمیاں)، آتش فشانی دھماکے اور فضا کی ساخت میں بتدریج تبدیلی شامل ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے زمین کی اندرونی حرارت اور بیرونی شمسی توانائی میں توازن بگڑتا جائے گا، فضا مزید پتلی ہوتی جائے گی اور آکسیجن کی مقدار خطرناک حد تک کم ہوجائے گی۔
اگرچہ یہ ماڈل قریبی مستقبل کی تباہی کی نشاندہی نہیں کرتا، تاہم اس نے یہ واضح کردیا ہے کہ زمین کا نظامِ حیات ہمیشہ کے لیے مستقل نہیں ہے۔ سائنسدانوں نے کہا کہ اس پیشگوئی کو کسی یقینی انجام کے طور پر نہیں بلکہ ایک سائنسی تنبیہ کے طور پر لیا جانا چاہیے۔ انسانی ٹیکنالوجی، قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع اور موسمیاتی اقدامات اگر مؤثر ثابت ہوئے تو اس ممکنہ تباہی کو کئی صدیوں بلکہ ہزاروں سال تک مؤخر کیا جاسکتا ہے۔
ماہرین نے مزید کہا کہ زمین کا مستقبل انسانوں کے فیصلوں پر بھی منحصر ہے۔ اگر انسانی سرگرمیاں، فضائی آلودگی اور جنگلات کی تباہی اسی رفتار سے جاری رہیں تو وہ عوامل جو اربوں سال بعد ظاہر ہونے تھے، شاید چند صدیوں میں سامنے آجائیں۔
اس دلچسپ مگر پریشان کن تحقیق نے دنیا بھر کے ماحولیاتی اداروں اور خلائی سائنسدانوں کے درمیان ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے کہ کیا انسان واقعی اپنی زمین کو غیر آباد کرنے کی راہ پر گامزن ہے یا سائنسی ترقی مستقبل میں کوئی نیا راستہ فراہم کرسکے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
سٹی 42 : فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں ۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے جی ایچ کیو میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء کی ملاقات ہوئی ۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کی مشترکہ کوششوں سے بلوچستان میں پائیدار امن قائم ہوگا۔ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف ہدفی کارروائیاں مکمل عزم کے ساتھ جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان اور عوام کے لیے خطرہ بننے والے دہشت گرد نیٹ ورک کا ہر صورت خاتمہ کیا جائے گا، بیرونی سرپرستی میں چلنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی اور عدم استحکام پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دشمن کے مذموم عزائم کو مسلح افواج اور پاکستانی عوام کے اتحاد و استقامت سے ناکام بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا فخر اور قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ بلوچستان کے محب وطن، باصلاحیت اور ثابت قدم عوام صوبے کی سب سے بڑی طاقت ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ترقیاتی منصوبے بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوامی اور جامع حکمت عملی کے تحت جاری ہیں۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے قومی یکجہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے پاکستان کے استحکام، ترقی اور خودمختاری کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔