اسرائیل نے مزید 15 فلسطینی قیدیوں کی میتیں غزہ کے حوالے کردیں، تعداد 135 ہوگئی
اشاعت کی تاریخ: 21st, October 2025 GMT
غزہ جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیل نے آج مزید 15 فلسطینی قیدیوں کی میتیں فلسطینی حکام کے حوالے کیں، جس کے بعد واپس کی گئی میتوں کی مجموعی تعداد 135 ہو گئی ہے۔ ان تمام افراد کو اسرائیلی جیلوں میں قید کے دوران بدترین حالات کا سامنا رہا۔
دوسری جانب، حماس نے اعلان کیا ہے کہ وہ آج رات مزید دو اسرائیلی یرغمالیوں کی لاشیں اسرائیل کے حوالے کرے گی۔ اب تک حماس 9 لاشیں واپس کر چکی ہے، جبکہ تقریباً 19 لاشیں تاحال ملبے تلے دبی ہوئی ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔
قبل ازیں، قیدیوں کے تبادلے کے ایک معاہدے کے تحت حماس 20 زندہ اسرائیلی یرغمالی رہا کر چکی ہے، جن کے بدلے اسرائیل نے1700 سے زائد فلسطینی قیدی رہا کیے تھے۔
واضح رہے کہ اسرائیل کی مسلسل بمباری اور غزہ کی ناکہ بندی کے نتیجے میں 65 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ جبکہ دو لاکھ سے زائد زخمی ہیں۔ انسانی امداد کی راہیں اب بھی بند ہیں، اور خوراک سے محروم بچے موت سے لڑ رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
خبردار اپنی سمز کسی اور کو نہ دیں۔۔۔ پی ٹی اے نے اہم ہدایات جاری کردیں۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے موبائل فون صارفین کو سمز کے غیر قانونی استعمال اور فراڈ سے بچنے کے لیے اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اپنی سم کسی دوسرے شخص کو دینا قابلِ سزا جرم ہے، کیونکہ آپ کے نام پر رجسٹرڈ سم کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں استعمال ہو سکتی ہے، جس کی قانونی ذمہ داری بھی سم ہولڈر پر عائد ہو سکتی ہے۔پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ آگاہی پیغام میں کہا گیا ہے کہ تمام صارفین اپنی رجسٹرڈ سمز کی تعداد کی باقاعدگی سے جانچ کریں تاکہ کسی بھی غیر مجاز یا غیر ضروری سم کی بروقت نشاندہی کرکے اسے بلاک کرایا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے صارفین cnic.sims.pk پر جا کر یا اپنا 13 ہندسوں پر مشتمل شناختی کارڈ نمبر بغیر ڈیش کے 668 پر ایس ایم ایس کرکے اپنے نام پر رجسٹرڈ سمز کی تفصیلات حاصل کر سکتے ہیں۔اتھارٹی نے ہدایت کی کہ اگر کسی صارف کے نام پر ایسی سم رجسٹرڈ ہو جس کے بارے میں وہ لاعلم ہو یا جس کی ضرورت نہ ہو تو اسے فوری طور پر متعلقہ موبائل کمپنی سے رابطہ کرکے بند کرایا جائے تاکہ کسی بھی ممکنہ دھوکا دہی یا غیر قانونی استعمال سے بچا جا سکے۔پی ٹی اے نے مزید کہا کہ نئی سم ہمیشہ متعلقہ موبائل کمپنی کی مستند فرنچائز یا کسٹمر سروس سینٹر سے ہی حاصل کی جائے اور بائیو میٹرک تصدیق کے عمل کے دوران مکمل احتیاط برتی جائے۔ صارفین اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کی اجازت اور علم کے بغیر ان کے شناختی کارڈ پر کوئی نئی سم رجسٹرڈ نہ کی جائے۔اتھارٹی نے ایک بار پھر عوام کو متنبہ کیا کہ "مفت سم" یا دیگر پرکشش پیشکشوں کے لالچ میں اپنی بائیو میٹرک تصدیق ہرگز نہ کرائیں، کیونکہ دھوکے باز عناصر اس عمل کے ذریعے آپ کے نام پر اضافی سمز جاری کرا سکتے ہیں، جو بعد ازاں جرائم یا فراڈ میں استعمال ہو سکتی ہیں۔پی ٹی اے نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ اپنی ذاتی معلومات، شناختی دستاویزات اور بائیو میٹرک ڈیٹا کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور کسی بھی مشتبہ سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ موبائل آپریٹر یا پی ٹی اے سے رابطہ کریں تاکہ محفوظ اور ذمہ دارانہ موبائل استعمال کو فروغ دیا جا سکے۔