data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ٹھٹھہ (نمائندہ جسارت)سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کراچی کے صدر ایڈووکیٹ سرفراز میتلو نے ایک بار پھر بار کے انتخابات کے بعد کارپوریٹ فارمنگ کے خلاف وکلا کی منظم تحریک شروع کرنے کا عندیہ دے دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نہروں اور کارپوریٹ فارمنگ کے معاملے پر جاری تحریک کے دوران وکلا کے ایک دوسرے گروپ نے 26ویں آئینی ترمیم سمیت دیگر معاملات کو درمیان میں لا کر منظم تحریک کو متاثر کیا۔ایڈووکیٹ سرفراز میتلو، ٹھٹھہ پہنچے جہاں انہوں نے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن ٹھٹہ کے وکلا کی جانب سے دی گئی استقبالیہ تقریب میں شرکت کی اور وکل سے ووٹ دینے کی اپیل بھی کی۔اس موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ایڈووکیٹ سرفراز میتلو نے کہا کہ دریائے سندھ ہماری زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ کالاباغ ڈیم جیسے مردہ گھوڑے اور پنجاب کے تعصبانہ رویے کو کسی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا کیونکہ دریائے سندھ سندھ کی تہذیبوں کو جنم دینے والا ایک لازوال دریا ہے، جس کی بقا اور تحفظ کے لیے ہم ہمیشہ کی طرح آگے رہیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ کارپوریٹ فارمنگ کے معاملے پر ہمارا مؤقف واضح تھا کہ ببرلو کے دھرنے میں صرف نہروں اور کارپوریٹ فارمنگ کا معاملہ شامل ہونا چاہیے تھا، لیکن بدقسمتی سے ہمارے کچھ وکیل دوستوں نے اس دھرنے میں 26ویں آئینی ترمیم سمیت دیگر معاملات کو شامل کر دیا، جس پر ہمیں اور دیگر وکل کو تحفظات تھے۔ سرفراز میتلو کا مزید کہنا تھا کہ ببرلو دھرنے کے دوران نہروں کے معاملے پر ہم کامیاب رہے، اور اس پر ایک کمیٹی بھی بنی، لیکن بعض وکیل دوست سیاست کرنے کے شوقین ہیں، جس کی وجہ سے سندھ کا یہ اہم مسئلہ وکلا کے گروپوں کے اختلافات کی نذر ہو کر تنازع کا شکار بن گیا۔انہوں نے کہا کہ جاری سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کراچی سمیت سندھ بار کونسل کے انتخابات کے بعد ہم مشترکہ طور پر کارپوریٹ فارمنگ کے مسئلے پر سندھ بھر کے وکل کو متحد کر کے ایک منظم اور مؤثر تحریک کا آغاز کریں گے، جس کے نتائج امید ہے کہ مثبت ہوں گے۔

نمائندہ جسارت سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کارپوریٹ فارمنگ کے

پڑھیں:

اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی

پشاور(ڈیلی پاکستان آن لائن)عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے خلاف  سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کے معاملے پر اے این پی کے صوبائی صدر  میاں افتخار حسین نے نیشنل  سائبرکرائم  انوسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے)  میں  درخواست جمع کرادی۔

 ایک شخص کےخلاف آئی جی اور سیکرٹری داخلہ کو بھی درخواست دی گئی ہے۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق میاں افتخار کا کہنا ہے کہ اے این پی کے خلاف سوشل میڈیا  پر مذہبی بنیادوں  پر نفرت انگیز اور اشتعال انگیز  مہم  قابل مذمت ہے، پارٹی کے خلاف نفرت پھیلا کر  سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، اے این پی آئین کی بالادستی، جمہوریت، عدم تشدد  اور انتہا پسندی کے خلاف جدوجہد کی علمبردار ہے۔

امریکی فورسز نے متعدد ایرانی بیلسٹک میزائل اور ڈرونز کو تباہ کر دیا: سینٹکام

میاں افتخار نے مطالبہ کیا ہےکہ  این سی سی آئی اے، آئی جی اور سیکرٹری داخلہ فوری  اور شفاف  تحقیقات کرائیں، نفرت انگیز مواد  پھیلانے اور جھوٹے بیانیے تشکیل دینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ