جماعت اسلامی کا اجتماع عام “نظام بدلو تحریک” کا ولولہ انگیز پڑاؤ ہوگا، نگہت قریشی
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: جماعت اسلامی حلقہ خواتین ضلع قائدین کی نائب ناظمہ نگہت قریشی نے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کے تحت 21، 22 اور 23 نومبر کو ہونے والا اجتماع عام دراصل نظام بدلو تحریک کا ایک ولولہ انگیز اور فیصلہ کن پڑاؤ ثابت ہوگا، اس اجتماع کی کامیابی کے لیے تمام کارکنان کو اپنی توانائیاں، صلاحیتیں اور وسائل وقف کر دینے چاہییں تاکہ یہ تاریخی اجتماع ایک مثالی اور منظم انداز میں منعقد ہو۔
انہوں نے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اجتماع محض ایک پروگرام نہیں بلکہ اقامتِ دین کے راستے پر عملی جدوجہد اور فکری تربیت کا سنگ میل ہے، جس کا مقصد قوم میں بیداری پیدا کرنا اور اسلامی نظام کے قیام کے لیے اجتماعی عزم کو مضبوط بنانا ہے۔ نگہت قریشی نے کہا کہ جماعت اسلامی کے اجتماعات ہمیشہ سے فکری تربیت، اجتماعی نظم اور باہمی تعاون کا مظہر رہے ہیں اور اس بار بھی خواتین کارکنان بھرپور جذبے اور نظم کے ساتھ شرکت یقینی بنائیں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اجتماع عام کی تیاریوں میں ہر رکن اور کارکن کا کردار اہم ہے، اس لیے ہر خاتون اپنے وقت، وسائل اور صلاحیت کے مطابق حصہ ڈالے، انہوں نے اس موقع پر زور دیا کہ اجتماع کے دوران ایک دوسرے کی سہولت، نظم و ضبط اور خوش اخلاقی کو پیشِ نظر رکھا جائے تاکہ ایک مثالی ماحول قائم ہو۔
نگہت قریشی نے کہا کہ جماعت اسلامی کے اجتماع عام کا مقصد صرف نعرے بازی نہیں بلکہ عملی جدوجہد، فکری تعمیر اور سماجی تبدیلی کے لیے مؤثر منصوبہ بندی ہے، خواتین اس جدوجہد میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں اور ان کی شرکت سے تحریک کو نئی توانائی اور سمت ملے گی۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ اجتماع عام میں شرکت کرنے والی خواتین کے لیے رہنمائی، تربیتی نشستوں اور تنظیمی ذمہ داریوں کے حوالے سے خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں تاکہ ہر شریک اس اجتماع سے بھرپور روحانی، فکری اور عملی فیض حاصل کر سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی نگہت قریشی انہوں نے کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
صدر پی ٹی آئی سندھ نے کہا کہ عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات کو متنازع بنانے کی کسی بھی کوشش سے گریز کیا جائے اور انتخابی عمل کو مکمل طور پر شفاف، غیر جانبدار اور منصفانہ بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کو اپنا ووٹ آزادانہ طور پر استعمال کرنے کا مکمل حق حاصل ہے اور کسی قسم کی مداخلت یا دباؤ جمہوری اقدار کے منافی ہوگا۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ملک میں سیاسی استحکام کا راستہ صرف آزاد، شفاف اور غیر جانبدار انتخابات سے ہو کر گزرتا ہے، عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی روایت نے ماضی میں پاکستان کو سیاسی اور معاشی بحرانوں سے دوچار کیا، اس لیے ضروری ہے کہ عوام کے فیصلے کا مکمل احترام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ 8 فروری 2024ء کے عام انتخابات میں عوام نے اپنا واضح فیصلہ دیا تھا، تاہم عوامی مینڈیٹ کو متنازع بنانے اور اس پر اثر انداز ہونے کی کوششوں نے جمہوری عمل کو نقصان پہنچایا، آج بھی عوام عمران خان کے بیانیے اور قیادت پر بھرپور اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں اور پاکستان تحریک انصاف ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت ہے۔
حلیم عادل شیخ نے مطالبہ کیا کہ پاکستان تحریک انصاف کو گلگت بلتستان میں انتخابی مہم چلانے کے مساوی اور آئینی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر آ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل کو ہر قسم کے دباؤ، جانبداری اور غیر ضروری مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ عوام اپنی مرضی کے نمائندوں کا انتخاب کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام باشعور ہیں اور وہ اپنے ووٹ کی طاقت سے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں گے، عوام کا فیصلہ ہی جمہوریت اور پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ پاکستان تحریک انصاف گلگت بلتستان کے انتخابات میں عوامی حمایت کے ساتھ بھرپور کامیابی حاصل کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے مزید کہا کہ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی، سرمایہ کاری اور عوامی خوشحالی ممکن نہیں، لہذا تمام متعلقہ حکام اس امر کو یقینی بنائیں کہ انتخابات مکمل طور پر شفاف اور منصفانہ ہوں اور عوام کے مینڈیٹ کا ہر صورت احترام کیا جائے۔