ملک میں مہنگائی میں مسلسل اضافہ، قیمتیں مجموعی طور پر 0.22 فیصد بڑھ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
اسلام آباد:۔ ملک میں مہنگائی کی رفتار کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ ادارہ شماریات کے مطابق ہفتہ وار بنیادوں پر مہنگائی کی شرح میں چوتھے ہفتے بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، ایک ہفتے کے دوران مہنگائی کی مجموعی شرح میں مزید 0.22 فیصد اضافہ ہوا۔
رپورٹ کے مطابق سالانہ بنیادوں پر ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 5.
اعداد و شمار کے مطابق ایک ہفتے کے دوران پیاز فی کلو 5 روپے 81 پیسے، انڈے فی درجن 7 روپے، چینی 3 روپے 77 پیسے اور لہسن فی کلو 3 روپے 84 پیسے مہنگا ہوا۔ اسی طرح ٹماٹر فی کلو 92 پیسے جبکہ مٹن، تازہ دودھ، دال مسور اور بچوں کا دودھ بھی مہنگی ہونے والی اشیاءمیں شامل ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ چکن فی کلو 8 روپے 24 پیسے اور ایل پی جی کا گھریلو سیلنڈر کی قیمتوں میں 3 روپے 78 پیسے کمی ہوئی۔ اس کے علاوہ دال مونگ، گندم کا آٹا اور گ ±ڑ بھی سستی ہونے والی اشیاءمیں شامل ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق مسلسل بڑھتی ہوئی مہنگائی عوام کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کر رہی ہے، جس سے روزمرہ اخراجات کا بوجھ غریب اور متوسط طبقے پر بڑھتا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: مہنگائی کی کے مطابق
پڑھیں:
واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار
اسلام آباد،بجلی صارفین(awais laghari) کے لیے اچھی خبر سامنے آئی ہے کیونکہ جون 2026 کے دوران صارفین کو فی یونٹ 20 پیسے کا خالص ریلیف ملے گا جبکہ بجلی کی مجموعی قیمتوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
حکومتی ذرائع کے مطابق اس ریلیف کے نتیجے میں جون 2026 کے بجلی نرخ جنوری سے مئی 2026 کے مقابلے میں برقرار رہیں گے اور صارفین پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑے گا۔
پس منظر میں اپریل 2026 کے دوران عالمی توانائی منڈی کو شدید دباؤ کا سامنا رہا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے باعث آر ایل این جی کی قلت پیدا ہوئی جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت 70 ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
ماہرین کے مطابق اگر بروقت اقدامات نہ کیے جاتے تو صارفین پر 5 سے 6 روپے فی یونٹ تک اضافی بوجھ پڑ سکتا تھا۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے محدود لوڈ مینجمنٹ، مارکیٹوں کی جلد بندش، مقامی گیس کی اضافی فراہمی اور فرنس آئل کے محدود استعمال سمیت متعدد اقدامات کیے۔
، جس کے نتیجے میں فیول ایڈجسٹمنٹ کا اثر صرف 1.73 روپے فی یونٹ تک محدود رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے تقریباً 38 ارب روپے کا ممکنہ اضافی بوجھ صارفین پر منتقل ہونے سے بچ گیا۔
دوسری جانب بہتر انتظامی اصلاحات، لائن لاسز میں کمی، بجلی کی طلب میں اضافے اور مختلف ٹیرف پیکیجز کے مثبت اثرات کے باعث سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ میں 1.93 روپے فی یونٹ کمی ہوئی۔
مزید پڑھیں:وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی
جس سے صارفین کو مجموعی طور پر 65 ارب روپے کا فائدہ پہنچا۔حکومت کا مؤقف ہے کہ توانائی کے شعبے میں بروقت فیصلوں اور مؤثر انتظامی حکمت عملی کے باعث عالمی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود بجلی صارفین کو بڑے مالی بوجھ سے محفوظ رکھا گیا۔