محفوظ پنجاب مہم، بغیر لائسنس ڈرائیونگ کرنیوالوں کیخلاف کریک ڈاؤن میں تیزی
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
علی ساہی: پنجاب میں ٹریفک قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے اور حادثات کی روک تھام کے لیے 90 روزہ مہم بھرپور انداز میں جاری ہے۔
ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق رواں ماہ کے دوران بغیر لائسنس گاڑی چلانے والوں کے خلاف کارروائیوں میں 15 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اب تک 2 لاکھ 15 ہزار سے زائد شہریوں کو بغیر لائسنس ڈرائیونگ پر چالان کیا جا چکا ہے، جبکہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء میں بھی خاطر خواہ اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اداکار شریاس تالپڑے اور الوک ناتھ کے خلاف کروڑوں روپے کے فراڈ میں ملوث ہونے کا الزام، مقدمہ درج
ڈی آئی جی ٹریفک محمد وقاص نذیر نے کہا کہ بغیر لائسنس ڈرائیونگ ایک سنگین خلاف ورزی ہے اور ایسے افراد کسی رعایت کے مستحق نہیں.
ان کا مزید کہنا تھا کہ لاء انفورسمنٹ اقدامات کے باعث گزشتہ 3 ماہ کے دوران حادثات میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
ترجمان کے مطابق صوبہ بھر میں بلا تفریق کارروائیاں جاری ہیں تاکہ "محفوظ پنجاب" کے وژن کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: بغیر لائسنس
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔