پٹرولیم ڈویژن تیل و گیس کی تلاش و پیداوار کے شعبےمیں قومی سلامتی سے متعلق ضابطہ جاتی نظم و ضبط نافذ کرنے میں ناکام ہو رہا ہے کیونکہ ایک کمپنی کے غیرقانونی شیئرز کی فروخت سامنے آئی ہے۔

نجی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے فرنٹیئر ہولڈنگز لمیٹڈ (ایف ایچ ایل) اور سپڈ انرجی پرائیویٹ لمیٹڈ (ایس ای پی ایل) کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں تبدیلی اور ان کے شیئرز کسی غیر ملکی خریدار کو فروخت کرنے کے عمل پر پابندی لگا دی ہے، جبکہ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پیٹرولیم کنسیشنز (ڈی جی پی سی) فروخت سے حاصل ہونے والی رقم کی جانچ پڑتال میں ناکام رہا ہے۔

عدالت نے دونوں کمپنیوں کی ملکیت یا انتظامی ڈھانچے کی منتقلی سے متعلق تمام اقدامات روکنے کا حکم بھی جاری کیا ہے۔

ایف ایچ ایل کمپنی ایس ای پی ایل میں بڑی حصے دار ہے، اور مبینہ طور پر اس نے ڈی جی پی سی کی پیشگی منظوری کے بغیر شیئر ہولڈنگ اور انتظامی کنٹرول میں تبدیلیاں کیں، جو کہ پٹرولیم (ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن) رولز کی خلاف ورزی ہے۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق ایس ای پی ایل نے اپنی ملکیت اور انتظامی کنٹرول تبدیل کیا، اور ایک نئے سرمایہ کار گروپ نے ایف ایچ ایل کے شیئرز اور کارپوریٹ کنٹرول سنبھال لیا، جس کے نتیجے میں ایس ای پی ایل کی ملکیت میں بالواسطہ تبدیلیاں آئیں، جو پاکستان میں تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار کے منصوبے چلا رہی ہے۔

عدالت نے پٹرولیم ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن رولز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ایسی کمپنی کے شیئرز، مفاد یا کنٹرول کی منتقلی کے لیے ڈی جی پی سی کی پیشگی تحریری منظوری ضروری ہے۔

تاہم ایف ایچ ایل اور ایس ای پی ایل دونوں نے بعد میں ریگولیٹر کے سامنے تسلیم کیا کہ یہ تبدیلیاں بغیر اجازت کی گئیں، جسے انہوں نے شیئر ہولڈرز کی سطح پر اندرونی کارپوریٹ فیصلہ قرار دیا۔

دوسری جانب ڈی جی پی سی نے اب تک رول 69(ڈی) کے تحت کوئی کارروائی نہیں کی، حالانکہ یہ قاعدہ ایسی خلاف ورزیوں کی صورت میں لائسنس معطل یا منسوخ کرنے کا اختیار دیتا ہے، پٹرولیم رولز کے مطابق بغیر منظوری ملکیت یا کنٹرول منتقل کرنا قابل سزا خلاف ورزی ہے۔

بار بار رابطوں کے باوجود ڈی جی پی سی اور پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے اب تک کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ایس ای پی ایل ڈی جی پی سی

پڑھیں:

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز

تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران پر امریکی جارحیت کے بعد عالمی توانائی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ برطانوی خام تیل 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق برطانوی خام تیل (برینٹ) 100.56 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہو رہا ہے، جبکہ امریکی خام تیل (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت بڑھ کر 92.05 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات کا مربن خام تیل 108 ڈالر فی بیرل میں فروخت ہونے لگا ہے، جو عالمی منڈی میں توانائی کی بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔ادھر قدرتی گیس کی قیمت بھی بڑھ کر 2.95 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو (MMBtu) ہو گئی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ میں کشیدگی کے اثرات مزید نمایاں ہو رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
  • پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی