Jasarat News:
2026-07-24@06:47:57 GMT

پائلر کے تحت سانحہ بلدیہ کی یاد میں تقریب

اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سانحہ بلدیہ فیکٹری کی 13ویں برسی کے موقع پر، جس میں 260 مزدور جاں بحق ہوئے تھے، مزدور حقوق کے علمبردار، قانونی ماہرین اور متاثرہ خاندانوں نے گزشتہ دنوں کراچی پریس کلب میں منعقدہ تقریب میں اس سانحے کی یاد تازہ کی اور پاکستان میں مزدوروں کی سلامتی کے لیے نظامی اصلاحات کا مطالبہ کیا۔ یہ سیمینار پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیبر ایجوکیشن اینڈ ریسرچ (پائلر) کے زیر اہتمام منعقد ہوا، جس میں انصاف کے لیے جدوجہد کرنے والی اہم شخصیات شریک ہوئیں۔ یہ واقعہ تاریخ کے بدترین صنعتی سانحات میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔
پائلر کی جدوجہد: انصاف اور معاوضے کی فراہمی
پائلر کے جوائنٹ ڈائریکٹر عباس حیدر نے تقریب کا آغاز کرتے ہوئے ادارے کے کردار پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا:
’’پائلر نے بلدیہ فیکٹری کیس میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ یہ کوئی حادثہ نہیں بلکہ مجرمانہ غفلت تھی جس کے ذمہ داروں کا احتساب ضروری ہے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ پائلر نے جرمن ریٹیلر KiK سے معاوضہ حاصل کر کے ایک تاریخی کامیابی حاصل کی۔ یہ وہ کمپنی تھی جس کے لیے علی انٹرپرائزز فیکٹری 90 فیصد پیداوار کرتی تھی۔ پائلر کے بانی مرحوم کرامت علی کی قیادت میں دسمبر 2012 میں KiK سے ایک معاہدہ طے پایا جس کے تحت ایک ملین امریکی ڈالر بطور ابتدائی امداد متاثرین میں عدالتی کمیشن کے ذریعے تقسیم کیے گئے۔ بعد ازاں پائلر اور دیگر قومی و بین الاقوامی تنظیموں کے دباؤ پر KiK نے ستمبر 2016 میں مزید 5.

15 ملین ڈالر طویل المدتی معاوضے کے طور پر ادا کرنے پر اتفاق کیا، جو بین الاقوامی ادارہ محنت (ILO) کے ذریعے تقسیم ہوا تاکہ متاثرین کو باقاعدہ ادائیگیاں مل سکیں۔
عباس حیدر نے افسوس کا اظہار کیا کہ 2012 کے سانحے سے مکمل سبق نہیں سیکھا گیا، اگرچہ کچھ بہتری ضرور آئی ہے۔ انہوں نے کہا:
’’قوانین تو بنائے گئے ہیں مگر عملدرآمد نہیں ہوتا۔ فیکٹری مالکان کے پاس لائسنس تو ہیں مگر سلامتی کے اصولوں پر عمل نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہمیں مزدوروں کے حقوق اور عمارتوں کی حفاظت کے لیے آواز بلند کرنا ہوگی۔‘‘

پاکستان اکورڈ: فیکٹری سیفٹی کا ایک ماڈل
پائلر کے شریک ڈائریکٹر ذوالفقار شاہ نے پاکستان اکورڈ برائے صحت و سلامتی پر تازہ پیش رفت سے آگاہ کیا۔ یہ معاہدہ سانحہ بلدیہ فیکٹری اور 2013 کے رنا پلازہ حادثے (بنگلہ دیش) سے حاصل شدہ اسباق کی روشنی میں تشکیل دیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ یہ معاہدہ جنوری 2023 میں نافذ العمل ہوا اور اس کا مقصد بین الاقوامی برانڈز، ٹریڈ یونینز اور مینوفیکچررز کے درمیان قانونی طور پر پابند شراکت داری کے ذریعے فیکٹریوں میں محفوظ ماحول کو یقینی بنانا ہے۔
’’ہمارے 40 انجینئر مختلف فیکٹریوں کا معائنہ کرتے ہیں۔ ہم برقی خطرات اور فائر ایگزٹ جیسے مسائل کی نشاندہی اور درستگی کرتے ہیں۔ اب تک 900 رپورٹس تیار کی جا چکی ہیں اور 6 لاکھ میں سے 1 لاکھ مزدوروں کو تربیت دی جا چکی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اکورڈ نے ایک شکایتی نظام بھی قائم کیا ہے جس میں اب تک 150 شکایات موصول ہوئی ہیں۔
’’مزدوروں کو اپنے حقوق اور حفاظتی اصولوں سے واقف کرانا بے حد ضروری ہے۔‘‘
ذوالفقار شاہ نے تجویز دی کہ متاثرہ خاندان پاکستان اکورڈ کے ساتھ مل کر ایک آن لائن یادگاری سیکشن قائم کریں تاکہ سانحہ بلدیہ کے شہداء کی جدوجہد آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بن سکے۔

قانونی کامیابیاں اور موجودہ چیلنجز
فیصل صدیقی، جو سانحہ بلدیہ کیس کے مرکزی وکیل ہیں، نے کہا:
’’یہ محض حادثہ نہیں بلکہ نظام اور فیکٹری مالکان کے ہاتھوں کیا گیا اجتماعی قتل تھا۔ یہ پاکستان کا 9/11 تھا۔‘‘
انہوں نے 1911 کے ٹریانگل فیکٹری فائر (نیویارک) سے موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ وہاں بھی اسی طرح کے حالات تھے۔ بند کھڑکیاں، کوئی فائر ایگزٹ نہیں، اور کوئی حفاظتی اقدامات نہیں۔
’’اس حادثے کے بعد امریکہ نے نظامی اصلاحات نافذ کیں، ہمیں بھی اسی نوعیت کی تبدیلیاں درکار ہیں۔‘‘
فیصل صدیقی نے مرحوم کرامت علی کو خراجس عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا:
’’یہ سب ان کی بدولت ممکن ہوا۔ KiK کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کرامت علی نے ہی دستخط کی تھی، مگر افسوس کہ ملک نے ان کی قدر نہ کی۔‘‘
انہوں نے جدوجہد کے نتیجے میں حاصل ہونے والی نمایاں کامیابیوں کا ذکر کیا:

1934 کے صحت و سلامتی قانون کی سندھ میں 2017 میں جدید شکل میں اصلاح
جرمنی میں سپلائی چین ڈیو ڈیلیجنس قانون کا نفاذ، جو خریداروں کو سپلائر فیکٹریوں کی حفاظت یقینی بنانے کا پابند کرتا ہے۔
پاکستان کی گارمنٹ فیکٹریاں اب بنگلہ دیش سے زیادہ محفوظ سمجھی جاتی ہیں۔
ILO کے تحت 6 ملین ڈالر سے زائد کا معاوضہ متاثرہ خاندانوں کو دیا گیا۔
عدالت کے حکم پر فیکٹری مالکان سے 5 کروڑ روپے ضبط کیے گئے۔
’’یہ شرم کی بات ہے کہ ہم ان لوگوں کو یاد نہیں رکھتے جن کی جدوجہد نے دنیا میں مثبت تبدیلی لائی۔ خوش قسمتی سے 2012 کے بعد ایسا کوئی بڑا سانحہ نہیں ہوا، یہ آپ سب کی جدوجہد کا ثمر ہے۔‘‘
تاہم انہوں نے نجی انشورنس معاہدے پر اعتراض اٹھایا جو متاثرین کی رضامندی کے بغیر کیا گیا۔
’’ہم نے جنیوا میں ILO کے پاس شکایت درج کرائی ہے اور یہ معاملہ سپریم کورٹ میں بھی لے جا رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے زور دیا کہ اتحاد اور یکجہتی ہی کامیابی کی بنیاد ہیں۔
’’جب عوام متاثرین کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں تو عدالتیں بھی سنتی ہیں۔‘‘

انصاف پر عدالتی نقطہ نظر
جسٹس (ر) مقبول باقر، جنہوں نے اس کیس کی سربراہی کی، نے کہا:
’’یہ فیکٹری قید خانے جیسی تھی۔ کوئی فائر ایگزٹ نہیں، کوئی وینٹی لیشن نہیں، لکڑی کا فلور، اور آگ بجھانے کے انتظامات کا مکمل فقدان۔‘‘
انہوں نے متاثرین کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ، معاوضہ کمیشن کے قیام، اور فیکٹری مالکان کے اثاثوں کی ضبطی کے احکامات جاری کیے۔ جو پاکستان میں ایک قانونی مثال بنے۔
’’اگر اس جدوجہد کو صحیح انداز میں دستاویزی شکل دی جائے تو یہ دنیا بھر میں پڑھائی جا سکتی ہے۔‘‘
انہوں نے متاثرہ ماں سعیدہ خاتون اور وکلاء کو خراجِ تحسین پیش کیا، اور کہا کہ ’’کرامت علی کو بھلایا نہیں جا سکتا۔‘‘

مزدور سلامتی پر دیگر آراء
صحافی مہناز رحمان نے کہا کہ
’’یہ جدوجہد این جی اوز کی نہیں بلکہ ترقی پسند عوام کی ہے۔‘‘
انہوں نے خواتین مزدوروں پر غیر متناسب بوجھ کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ کام کی جگہوں کو محفوظ اور ہراسانی سے پاک بنایا جائے۔
اسد بٹ (ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان) نے بتایا کہ وہ فیکٹری کے معائنے کے دوران ’’پہچان سے باہر جلی ہوئی لاشیں‘‘ دیکھ چکے ہیں۔ انہوں نے آڈٹ فرم RINA کو تنقید کا نشانہ بنایا جس نے آگ لگنے سے ایک ماہ قبل فیکٹری کو محفوظ قرار دیا تھا۔
طاہر حسن خان (کراچی یونین آف جرنلسٹس) نے میڈیا کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا:
’’میڈیا نے متاثرین کی کہانیاں سامنے لا کر اس کیس کو توجہ دلائی۔‘‘
سینئر مزدور رہنما حبیب الدین جنیدی نے نظامی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا جبکہ قمرالحسن نے بتایا کہ صرف 2024 میں کراچی کے صنعتی علاقوں میں درجنوں آتشزدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ جو مجرمانہ غفلت کا ثبوت ہیں۔
متاثرہ خاتون ناذیہ رحمان، جنہوں نے اپنے شوہر اور بھائی دونوں کو اس سانحے میں کھویا، نے پائلر، جسٹس باقر اور فیصل صدیقی کا شکریہ ادا کیا اور بتایا کہ وہ اب بیوٹیشن اور سماجی کارکن کے طور پر سرگرم ہیں۔
’’میرے بچے اب یونیورسٹی جا رہے ہیں، یہ کرامت علی کی تحریک کا نتیجہ ہے۔‘‘

سفارشات
تقریب کے اختتام پر پائلر کے جوائنٹ ڈائریکٹر عباس حیدر نے چند سفارشات پیش کیں:
صحت و سلامتی کے پروٹوکولز اور معائنہ نظام کو مضبوط بنایا جائے
لیبر انسپکٹرز کی تعداد میں اضافہ کیا جائے
11 ستمبر کو قومی یومِ تحفظِ صحت و سلامتی برائے مزدور قرار دیا جائے۔
تمام مزدوروں کو بلا رکاوٹ صنعتی یونینز میں شمولیت کا حق دیا جائے
معاشی ناہمواری کے خاتمے کے لیے فیکٹری مالکان مزدوروں کو ان کے بنیادی حقوق (کم از کم اجرت، گریجویٹی، اور ہیلتھ انشورنس) فراہم کریں۔ محض خیرات نہیں جو ان لاوارث مزدوروں کاحق ہے اور وہ ان سے محروم ہیں۔

ویب ڈیسک گلزار

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پاکستان اکورڈ فیکٹری مالکان صحت و سلامتی سانحہ بلدیہ نے بتایا کہ مزدوروں کو کرامت علی کرتے ہوئے کی جدوجہد یہ فیکٹری انہوں نے پائلر کے ہوئے کہا کے لیے کہا کہ نے کہا

پڑھیں:

بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔

قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں  کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔

پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔

قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔  ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔

پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔

قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔

 

متعلقہ مضامین

  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • ارشد ندیم کی قیادت میں پاکستانی دستے کی کامن ویلتھ گیمز کی رنگا رنگ افتتاحی تقریب میں شاندار شرکت
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • نیشنل اسپیشل گیمز: کراچی میں  فٹبال ٹورنامنٹ کے بعد اختتامی تقریب کا انعقاد
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا