City 42:
2026-07-24@09:55:28 GMT

علیمہ خان کے پانچویں مرتبہ ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT

ویب ڈیسک:  انسداد دہشتگردی عدالت نے پانچویں مرتبہ علیمہ خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔

راولپندی کی انسداد دہشتگردی عدالت کے جج امجد علی شاہ نے علیمہ خان سمیت 11 ملزمان کے خلاف 26 نومبر کے احتجاج پر درج مقدمے کی سماعت کی جہاں علیمہ خان ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے باوجود آج بھی عدالت پیش نہیں ہوئیں۔

سماعت کے سلسلے میں استغاثہ میں سے 5 گواہان اور مقدمے میں نامزد دیگر 10 ملزمان عدالت میں پیش ہوئے جب کہ اسپیشل پراسیکیوٹر ظہیر شاہ بھی ٹیم کے ہمراہ حاضر ہوئے۔

بھارتی سٹار کرکٹرICUمیں داخل، وجہ کیا بنی؟

عدالت میں علیمہ خان کا کوئی وکیل بھی پیش نہیں ہوا جس پر جج نے پانچویں مرتبہ ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے جب کہ عدالت نے کیس کی سماعت 30 اکتوبر تک ملتوی کردی۔

واضح رہے کہ علیمہ خان کاشناختی کارڈ، پاسپورٹ اوربینک اکاؤنٹس پہلےہی بلاک کرنےکا حکم جاری ہوچکا ہے اور عدالت نے نادرا، پاسپورٹ امیگریشن سمیت اسٹیٹ بینک سے رپورٹ طلب کررکھی ہے۔

Ansa Awais Content Writer.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری علیمہ خان

پڑھیں:

نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔

اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • سہیل آفریدی کے خلاف درخواستیں سماعت کے لیے مقرر، فریقین کو نوٹس جاری
  • وفاقی آئینی عدالت، سہیل آفریدی کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
  • نیب کیسز کی مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ  جاری کردیاگیا
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
  • فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  •  230 سے زائد پی ٹی آئی رہنماؤں  کارکنوں کی عبوری ضمانت میں توسیع