Islam Times:
2026-06-03@03:36:09 GMT

ترکیہ عراق سے نکلنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا، عراقی رہنما

اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT

ترکیہ عراق سے نکلنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا، عراقی رہنما

الردینی کے مطابق ترکیہ سیاسی اور سیکورٹی حالات کا فائدہ اٹھا کر شمالی علاقوں خصوصاً موصل اور کرکوک میں جغرافیائی اور اقتصادی مفادات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ عراق میں اہلِ تشیع زعما کے ہم آہنگی فریم ورک کے ایک رکن عقیل الردینی نے کہا ہے کہ ترکیہ عراق کی سرزمین میں اپنی توسیع پسندانہ لالچ جاری رکھے ہوئے ہے۔ عقیل الردینی نے نشاندہی کی کہ انقرہ صوبہ نینوا اور کرکوک کو اثر و رسوخ اور غلبے کے زاویے سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شمالی عراق میں ترکی کے فوجی وجود کے خاتمے کے لیے کیے گئے تمام سرکاری اور عوامی مطالبات کے باوجود ترکیہ نے اب تک انخلا کا کوئی سنجیدہ فیصلہ ظاہر نہیں کیا۔

الردینی کے مطابق ترکیہ سیاسی اور سیکورٹی حالات کا فائدہ اٹھا کر شمالی علاقوں خصوصاً موصل اور کرکوک میں جغرافیائی اور اقتصادی مفادات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کی حالیہ کارروائی شمال میں جاری طویل جنگ کے خاتمے اور وہاں طاقت کے توازن کو بحال کرنے کی ایک کوشش ہے،عراقی حکومت کو ایک دوٹوک مؤقف اختیار کرنا چاہیے تاکہ ملک کی خودمختاری اور انقرہ کی مسلسل جارحیت کو روکا جا سکے۔

الردینی نے خبردار کیا کہ ترکی کے اقدامات پر مسلسل خاموشی عراق کے مؤقف اور مقام کو کمزور کرے گی، ایک جامع سفارتی اور سلامتیاتی حکمتِ عملی اپنائی جائے جو انقرہ کو عراق کے داخلی امور میں بڑھتی ہوئی مداخلت سے باز رکھے۔ قابلِ ذکر ہے کہ کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) نے 26 اکتوبر 2026 کو اعلان کیا تھا کہ اس نے اپنے تمام جنگجوؤں کو ترکی کی سرزمین سے شمالی عراق منتقل کر دیا ہے تاکہ امن و جمہوری معاشرے کے قیام کے عمل کے دوسرے مرحلے کی تیاری کی جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

پڑھیں:

بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا

اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • نواز شریف این او سی لے کر گلگت بلتستان گئے، راناثنا
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • دیوار سے لگانے کی کوشش کی گئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے ؛ سہیل آفریدی
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
  • گورنر خیبرپختونخوا سے ترک سفیر کی ملاقات ، باہمی تعاون ،دوطرفہ امور پر تبادلہ خیال