ترکیہ عراق سے نکلنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا، عراقی رہنما
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
الردینی کے مطابق ترکیہ سیاسی اور سیکورٹی حالات کا فائدہ اٹھا کر شمالی علاقوں خصوصاً موصل اور کرکوک میں جغرافیائی اور اقتصادی مفادات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ عراق میں اہلِ تشیع زعما کے ہم آہنگی فریم ورک کے ایک رکن عقیل الردینی نے کہا ہے کہ ترکیہ عراق کی سرزمین میں اپنی توسیع پسندانہ لالچ جاری رکھے ہوئے ہے۔ عقیل الردینی نے نشاندہی کی کہ انقرہ صوبہ نینوا اور کرکوک کو اثر و رسوخ اور غلبے کے زاویے سے دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شمالی عراق میں ترکی کے فوجی وجود کے خاتمے کے لیے کیے گئے تمام سرکاری اور عوامی مطالبات کے باوجود ترکیہ نے اب تک انخلا کا کوئی سنجیدہ فیصلہ ظاہر نہیں کیا۔
الردینی کے مطابق ترکیہ سیاسی اور سیکورٹی حالات کا فائدہ اٹھا کر شمالی علاقوں خصوصاً موصل اور کرکوک میں جغرافیائی اور اقتصادی مفادات حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کی حالیہ کارروائی شمال میں جاری طویل جنگ کے خاتمے اور وہاں طاقت کے توازن کو بحال کرنے کی ایک کوشش ہے،عراقی حکومت کو ایک دوٹوک مؤقف اختیار کرنا چاہیے تاکہ ملک کی خودمختاری اور انقرہ کی مسلسل جارحیت کو روکا جا سکے۔
الردینی نے خبردار کیا کہ ترکی کے اقدامات پر مسلسل خاموشی عراق کے مؤقف اور مقام کو کمزور کرے گی، ایک جامع سفارتی اور سلامتیاتی حکمتِ عملی اپنائی جائے جو انقرہ کو عراق کے داخلی امور میں بڑھتی ہوئی مداخلت سے باز رکھے۔ قابلِ ذکر ہے کہ کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) نے 26 اکتوبر 2026 کو اعلان کیا تھا کہ اس نے اپنے تمام جنگجوؤں کو ترکی کی سرزمین سے شمالی عراق منتقل کر دیا ہے تاکہ امن و جمہوری معاشرے کے قیام کے عمل کے دوسرے مرحلے کی تیاری کی جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔