اسلامی تحریک پاکستان کا گلگت بلتستان کے انتخابات میں بھرپور حصہ لینے کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
علامہ سید ساجد علی نقوی کی زیر صدارت مشاورتی اجلاس برائے سیاسی عمل و آئندہ انتخابات گلگت بلتستان منعقد ہوا، سیاسی کمیٹی قائم کردی گئی، علامہ شبیر میثمی کمیٹی کے چیئرمین نامزد کئے گئے، مشاورت کے ساتھ بہتر تجاویز پر عملی جامہ پہناتے ہوئے سیاسی میدان میں آگے بڑھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی تحریک پاکستان نے گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات میں بھرپور حصہ لینے کا اعلان کرتے ہوئے انتخابات میں منظم انداز میں آئی ٹی پی کو انتخابی میدان میں اتارنے کے لیے سیاسی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ اس امر کا اعلان اسلامی تحریک پاکستان کے سربراہ، قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کی زیر صدارت ایک اہم مشاورتی اجلاس میں کیا گیا۔ جس میں مرکزی سیکرٹری جنرل اسلامی تحریک پاکستان علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی، مرکزی نائب صدور علامہ عارف حسین واحدی، علامہ محمد رمضان توقیر، علامہ سید سبطین حیدر سبزواری، مرکزی ڈپٹی سیکرٹریز جنرل سید سکندر عباس گیلانی ایڈووکیٹ، سید مصور حسین نقوی، محمد علی قائد، مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد علی آخونزادہ اور وڈیو لنک کے ذریعے صوبائی آفس گلگت سے صوبائی صدر اسلامی تحریک پاکستان گلگت بلتستان شیخ مرزا علی، صوبائی جنرل سیکرٹری حاجی محمد یوسف اخوندزادہ، ضلعی صدر گلگت حاجی شاہ رئیس خان، شیخ حفاظت علی، شیر باز حسین، سخی احمد جان جبکہ بلتستان سے آئے ہوئے صوبائی و ضلعی عہدیداران حاجی محمد الیاس، سید محمد حسن سبزواری، مولانا سلمان کمال، مولانا نثار علی اتحادی شریک ہوئے۔
اجلاس میں گلگت بلتستان کے آئندہ صوبائی انتخابات میں بھرپور حصہ لینے کے لیے سیاسی عمل کو مضبوط بنانے کے لیے صوبائی اور مرکزی عہدیداروں نے بھرپور مشاورت کی۔ جس کے تحت فیصلہ کیا گیا کہ اسلامی تحریک پاکستان گلگت بلتستان کے انتخابات میں بھر پور حصہ لے گی جس کے لیے جی بی اور مرکزی عہدیداروں پر مشتمل سیاسی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا جس کا چیئرمین اسلامی تحریک پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی کو نامزد کیا گیا۔ اجلاس میں گلگت بلتستان کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے مختلف حکمت عملی پر غور و خوص کیا گیا اور مشاورت کے ساتھ بہتر تجاویز کو عملی جامہ پہنانے پر سیاسی میدان میں آگے بڑھنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ اجلاس میں اسلامی تحریک پاکستان سے دیگر جماعتوں کے ہونے والے رابطوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں صدارتی خطاب کرتے ہوئے قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے جی بی کے عہدیداروں کو اسلامی تحرک پاکستان کا پیغام عوام تک گھر گھر پہنچانے سمیت چیئرمین سیاسی کمیٹی علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی کو جی بی میں سیاسی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے ترجیحی اقدامات کرنے کے لیے رہنمائی کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اسلامی تحریک پاکستان گلگت بلتستان کے انتخابات میں سیاسی کمیٹی اجلاس میں علامہ سید حصہ لینے کیا گیا کے لیے
پڑھیں:
بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔
اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔
مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU
— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔
انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔
انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔
ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔
انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔
مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو
چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔
انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز