کشمیری عوام کی جدوجہد کامیابی سے ہمکنار ہوگی(سہیل آفریدی)
اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT
عالمی ادارے بھارتی مظالم کا نوٹس لیں، ہم کشمیریوں کے شانہ بشانہ ہیں،وزیراعلیٰ
27 اکتوبر 1947 ء کشمیر کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے،یوم سیاہ کشمیر پر بیان
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ کشمیری عوام کی جدوجہد کامیابی سے ہمکنار ہوگی، عالمی ادارے بھارتی مظالم کا نوٹس لیں۔یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر اپنے بیان میں وزیراعلی کے پی سہیل آفریدی نے کہا کہ 27 اکتوبر 1947 ء کشمیر کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے، بھارتی فورسز جموں و کشمیر پر ناجائز قبضے کے لئے سری نگر میں داخل ہوئیں، 1947 ء سے نہتے کشمیریوں پر ظلم و جبر کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ آزادی مقبوضہ کشمیر کے عوام کا بنیادی حق ہے، ہم کشمیریوں کی جدوجہدِ آزادی میں ان کے شانہ بشانہ ہیں، انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے بھارتی مظالم کا نوٹس لیں۔ا نہوںنے کہا کہ دنیا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حقِ خودار ادیت دلانے میں کردار ادا کرے، خطے کا پائیدار امن مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل سے وابستہ ہے، کشمیری عوام کی دہائیوں سے آزادی کی جدوجہد بے مثال ہے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ انشااللہ کشمیری عوام کی یہ جدوجہد کامیابی سے ہمکنار ہوگی، خود کو بڑی جمہوریت کہلانے والا بھارت کا ریاستی ظلم و ستم قابل مذمت ہے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: کشمیری عوام کی سہیل ا فریدی کی جدوجہد نے کہا کہ
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔