عمران خان کی اپنے خلاف درج تمام مقدمات یکجا کرنے کی درخواست عدم پیروی پر خارج
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اپنے خلاف درج تمام مقدمات یکجا کرنے کی درخواست عدم پیروی پر خارج کر دی گئی۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اپنے خلاف درج تمام مقدمات کو یکجا کرنے کی درخواست پر سماعت ہوئی جس میں عمران خان کی جانب سے کوئی وکیل عدالت میں پیش نہیں ہوا۔
دوران سماعت عدالت نے پنجاب حکومت کے وکیل سے استفسار کیا کہ درخواست گزار کے خلاف کتنے مقدمات درج ہیں؟ جس پر وکیل نے بتایا کہ درخواست گزار پر 107 مقدمات درج ہیں۔
پاکستان نے جنگ میں بھارت کے 7نئے خوبصورت گرائے ،ٹرمپ
چیف جسٹس عالیہ نیلم کے روبرو ہونے والی سماعت میں عمران خان کی جانب سے آج بھی کوئی وکیل پیش نہ ہوا جس پر عدالت نے درخواست عدم پیروی کی بنیاد پر خارج کر دی۔
واضح رہے کہ 2023 میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے یہ درخواست دائر کی گئی تھی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ پنجاب کے تمام شہروں میں مقدمات درج ہیں انہیں یکجا کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: عمران خان کی
پڑھیں:
سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم فیصلے میں قرار دیا ہے کہ بذات خود نشہ کرنے والا شخص کسی بھی جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور نہ ہی اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والے کو مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا کوئی حق حاصل ہے۔جیونیوز کے مطابق عدالتِ عظمیٰ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم ’سنی مسیح‘ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ اور ہائی کورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقراررکھنے کا حکم دے دیا۔
حملے کے بعد منسوخ وائٹ ہاؤس پریس ڈنر دوبارہ کرنے کا اعلان
جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ نے کیس کا تحریری فیصلہ تحریر کیا ، جبکہ اس اہم کیس کی سماعت کرنے والے تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پہنور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی شامل تھے۔دورانِ سماعت مجرم کے وکیل نے یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ واردات کے وقت ملزم نشے کی حالت میں تھا، لہٰذا اس بنیاد پر سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کیا جائے۔
عدالت نے اس استدعا کو یکسر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مجرم نے خود تسلیم کیا ہے کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔ عدالت نے رولنگ دی کہ رضاکارانہ نشے کو کسی بھی مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون کی تشریح کرتے ہوئے واضح کیا کہ جرم سے استثنیٰ صرف اور صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف (زبردستی) یا پھر اس کی لاعلمی میں کوئی نشہ آور چیز دی گئی ہو اور وہ اپنے حواس میں نہ ہو۔
پاکستانی نوجوان مقبوضہ کشمیر کی لڑکی کے عشق میں لائن آف کنٹرول کے پار پہنچ گیا
تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مجرم نے انتہائی بے دردی سے ایک کمسن اور معصوم بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا۔ یہ جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے جو کسی بھی رعایت کا متقاضی نہیں، لہٰذا مجرم کی اپیل خارج کی جاتی ہے۔
مزید :